پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ نامنظور: روس

تصویر کے کاپی رائٹ a
Image caption امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنا رہا ہے جن سے اسرائیل کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

روس نے کہا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے جوہری ادارے کی رپورٹ کے باوجود ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے کی حمایت نہیں کرے گا۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کے جوہری ادارے ’آئی اے ای اے‘ نے ایران پر اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ایرانی تحقیق میں جو کمپیوٹر ماڈل شامل ہیں وہ جوہری بم بنانے میں استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ تاہم اس رپورٹ کے بعد فرانس اور امریکہ ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

روس کے نائب وزیرِ خارجہ گیناڈی گیتیلوو نے خبر رساں ادارے انٹرفیکس کو بتایا کہ ایران کے خلاف دیگر پابندیاں عائد کرنے کا مقصد وہاں حکومتی نظام تبدیل کرنا ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ایران کے خلاف کسی قسم کی دیگر پابندیوں کو بین الاقوامی برادری میں ایران کا حکومتی نظام تبدیل کرنے کا ایک ذریعہ سمجھا جائے گا۔‘

انھوں نے کہا ’یہ طریقہ ہمیں ناقبول ہے اور روس ایسی تجاویز پر غور و فکر نہیں کرنا چاہتا۔‘

خیال رہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنا رہا ہے جن سے اسرائیل کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ لیکن ایران اس بات پر بضد ہے کہ جوہری پروگرام کا مقصد صرف ایرانی شہریوں کو بجلی کی سہولت فراہم کرنا ہے۔

اس سے قبل ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے ٹی وی پر نشر کیے جانے والے ایک خطاب میں کہا تھا کہ جوہری ہتھیار بنانے کے الزامات کے باوجود ایران اپنے جوہری پروگرام سے ذرا بھی پیچھے نہیں ہٹےگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کے جوہری ادارے کی رپورٹ بےبنیاد ہے اور اسے منظرِعام پر لائے جانے میں امریکہ کا ہاتھ ہے۔

ان کا کہنا تھا ’امریکہ کے غلط دعووں کی وجہ سے آپ اقوامِ متحدہ کو کیوں بدنام کر رہے ہیں؟‘

امریکہ سے مخاطب ہو کر انھوں نے کہا ’ آپ کے بیس ہزار بم کے جواب میں ہم دو بھی نہیں بنائیں گے۔ ہم کچھ ایسا بنائیں گے جس کا جواب آپ نہیں دے پائیں گے یعنی ہم اخلاقیت، انسانیت، یکجہتی اور انصاف سے کام لیں گے۔‘

احمدی نژاد کا کہنا تھا ’آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ایرانی لوگوں کے دشمنوں میں سے کوئی بھی کبھی فتح یاب نہیں ہوا۔‘

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی ایران پر آنے والی اب تک کی سب سے سخت رپورٹ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے ’اس طرح کی تحقیق جوہری دھماکہ خیز مواد کے علاوہ کسی اور پر کی جائے یہ آئی اے ای اے کی سمجھ سے بالاتر ہے۔‘

عالمی جوہری ادارے کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے جمع کی گئی معلومات قابلِ یقین ہیں اور یہ پینتیس رکن ریاستوں سے آئی ہیں جبکہ ایران سے بھی آئی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ وضاحتیں دینے کے لیے بلا تاخیر اقوامِ متحدہ کے جوہری ادارے سے رابطے میں رہے۔

اس رپورٹ کے آنے سے قبل اسرائیل میں قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیل کی جانب سے حملہ کیا جاسکتا ہے۔

اسی بارے میں