اسرائیلی وزیر اعظم جھوٹے ہیں: سرکوزی

تصویر کے کاپی رائٹ ap

فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے امریکہ کے صدر براک اوباما سے بات چیت کے دوران اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتنیاہو کو ’جھوٹا‘ کہا۔

نکولس سکروزی اور صدر اوباما کے درمیان ہونے والی یہ بات چیت ذرائع ابلاغ کے نمائندے سن رہے تھے۔

صدر اوباما نے نکولس سرکوزی کے اسرائیل کے وزیر اعظم کو جھوٹا کہنے کے جواب میں کہا ’کہ ہو سکتا ہے کہ آپ ان سے تنگ آ گئے ہوں لیکن میرا تو ان سے ہر روز واسط پڑتا ہے۔‘

فرانس میں ہونے والے جی ٹوئنٹی میں شامل ملکوں کے سربراہی اجلاس میں نکولس سرکوزی اور صدر اوباما کے درمیان یہ مکالمہ ہوا اور اسے ایک فرانسیسی ویب سائٹ نے شائع کیا جس کی تصدیق بعد میں دیگر ذرائع ابلاغ نے بھی کی۔

پیرس میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کرسٹن فریزر نے بتایا کہ نجی بات چیت میں کہے جانے والے ان مکالموں کو ذرائع ابلاغ کے نمائندے سن رہے تھے لیکن ابتداء میں انہوں نے اس بات چیت کو خبروں کی زینت نہ بنانے کا فیصلہ کیا۔

نکولس سرکوزی اور براک اوباما کی مشترکہ پریس کانفرنس میں موجود ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ہیڈ فونز دیے گئے اور انہیں ہدایت کی گئی کہ جب تک دونوں صدور کے درمیان نجی بات چیت ختم نہ ہو جائے ہیڈ فونز مت لگائیں۔ لیکن کچھ نمائندوں نے اوباما اور سرکوزی کے درمیان ہونے والی بات چیت سن لی۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق فرانس کے ذرائع ابلاغ اس بارے میں کئی دن تک مکمل طور پر خاموش رہے اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ صدر نکولس سرکوزی کو شرمندہ نہ کیا جائے۔

فرانسیسی اخبار لی مونڈ کے ایک صحافی نے اپنے مرسلے میں اس بات چیت کا اشارۃً ذکر کیا۔ لیکن اسرائیلی اخبارات میں اس بات چیت کو پوری تفصیل کے ساتھ شائع کیا گیا۔

کہا جا رہا ہے کہ صدر اوباما فرانس کی طرف سے فلسطین کی یونیسکو میں رکنیت کی درخواست کی حمایت کرنے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہے تھے۔

فرانس کے صدر کی طرف سے یہ کلمات کہے جانے پر اسرائیل اور فرانس کے رہنماؤں کے درمیان اعتماد کے فقدان کا اشارہ ملتا ہے۔ دونوں ملکوں کے رہنماؤں کے درمیان اعتماد کا یہ فقدان مشرقی وسطی کی سیاست کے لیے کافی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔