ترکی میں پھر زلزلہ، کئی عمارتیں منہدم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption زلزلے کی ریکٹر سکیل پر شدت پانچ اعشاریہ چھ تھی

ترکی میں تین ہفتے کے اندر ایک بار پھر زلزلہ آیا ہے جس میں ابتدائی اطلاعات ہیں کہ تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

مشرقی علاقوں میں آنے والے زلزلے کی ریکٹر سکیل پر شدت پانچ اعشاریہ چھ تھی جس کے باعث بیس کے قریب عمارتیں گِر گئی ہیں۔

وان شہر میں منہدم ہونے والی عمارتوں میں چھ منزلہ وہ ہوٹل بھی شامل ہے جہاں متعدد امدادی کارکن اور صحافی قیام پذیر تھے۔

زلزلہ مقامی وقت کے مطابق رات نو بج کر تیئس منٹ پر آیا اور اس کا مرکز وان شہر سے سولہ کلومیٹر جنوب میں تھا۔

اسی علاقے میں گزشتہ ماہ تئیس اکتوبر کو سات اعشاریہ دو شدت کا زلزلہ آیا تھا جس میں چھ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

استنبول میں بی بی سی نامہ نگار جانتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ گزشتہ زلزلے سے وان شہر کا شمالی علاقہ متاثر ہوا تھا جس کی وجہ سے شہر میں صحافی اور امدادی کارکن بڑی تعداد میں آگئے تھے۔

زلزلے سے شہر کو معمولی نقصان پہنچا ہے تاہم وہ عمارتیں جو کمزور ہوچکی تھی زمیں بوس ہوگئی ہیں۔

ٹی وی چینلوں پر دکھایا جارہا ہے کہ مقامی لوگ اور امدادی کارکن ملبے میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکال رہے ہیں۔

امدادی کارکنوں نے رات میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے تیز روشنی کا انتظام بھی کیا ہے۔

نائب وزیراعظم بصیر اتالے کا کہنا ہے کہ زلزلے سے ایک سکول اور مٹی کی اینٹوں سے بنے مکانات گِر گئے ہیں جبکہ ایک ہوٹل بھی منہدم ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دارالحکومت انقرہ اور دیگر علاقوں سے امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقے کی جانب روانہ کردیا گیا ہے۔

ترکی میں ریڈ کراس کے نمائندے الپر کوکک نے بی بی سی کو بتایا کہ ہوٹل کے ملبے تلے دبے گیارہ افراد کو بچا لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منہدم ہونے والی عمارتیں پچھلے زلزلے میں کمزور ہوچکی تھیں اور خالی تھیں۔

ان کے بقول ریڈ کراس متاثرہ علاقے میں امدادی سامان کے دو طیارے روانہ کررہا ہے جن میں ٹینٹ، کمبل اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بہت بڑا آفٹرشاک ہے جس نے لوگوں کو خوفزدہ کردیا ہے۔

تیئس اکتوبر کے زلزلے میں ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے تھے جو سخت سردی کے موسم میں ٹینٹوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

اسی بارے میں