ترکی:’ہائی جیکر ہلاک، مسافر بازیاب‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کمانڈو ایکشن کے وقت کشتی استنبول کے مغرب میں لنگرانداز تھی

ترک حکام کا کہنا ہے کہ مسافر کشتی اغواء کرنے والے کرد علیحدگی پسند ہائی جیکر کو کامیاب کمانڈو ایکشن کے بعد ہلاک کر دیا گیا ہے۔

ترکی کی مغربی بندرگاہ ازمت سے گلچک کے لیے روانہ ہونے والی کارتیپ نامی کشتی کو جمعہ کو اس وقت اغواء کیا گیا تھا جب وہ بحیرۂ مرمرہ میں سفر کر رہی تھی۔

اس کشتی پر بیس سے زائد مسافر اور عملے کے چھ ارکان سوار تھے اور ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ اغوا کاروں کی تعداد چار ہے اور انہوں نے کشتی کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی ہے

اغواء کے بعد کشتی کے کپتان نے ترک ٹیلیویژن کو مختصر انٹرویو میں بتایا تھا کہ اغواکار اپنا تعلق کالعدم کرد جماعت ’پی کے کے‘ مسلح دھڑے ایچ پی جی سے بتاتے ہیں۔

ترک وزارتِ نقل و حمل کے نائب سیکرٹری حبیب سولک کے مطابق ’یہ ایک کامیاب آپریشن تھا اور اس دوران مسافر اور عملے کے ارکان محفوظ رہے‘۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق استنبول کے گورنر حسین متلو نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں یہ بتا سکتا ہوں کہ وہ ایک شدت پسند تنظیم کا رکن تھا‘۔ان کے مطابق حملہ آور کو فوری طور پر ہلاک کر دیا گیا اور فائرنگ کا تبادلہ نہیں ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ ہائی جیکر کے پاس ایک آلہ موجود تھا جس میں تار اور ایک بٹن موجود تھا اور اب ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس آلے سے دھماکہ خیز مواد جڑا ہوا تھا یا نہیں۔

یہ کشتی اغواء کیے جانے کے بعد تقریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر کا سفر طے کر کے دارالحکومت استنبول کے مغرب میں سلمپاسا کے علاقے میں لنگرانداز تھی۔ اغواء کیے جانے کے بعد ترکی کے ساحلی محافظین کے جہازوں نے کشتی کے ساتھ ساتھ سفر کیا لیکن انہوں نے کشتی کو روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔

کرد علیحدگی پسند ترکی کے جنوب مشرقی کرد اکثریتی علاقے میں خودمختاری کے حصول کے لیے برسرِپیکار ہیں اور حالیہ چند ماہ میں ترک سکیورٹی فورسز اور کرد علیحدگی پسندوں کے مابین پرتشدد جھڑپوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔