شام پر عرب لیگ کی پابندیاں عائد

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام کےنمائندے نے الزام عائد کیا کہ عرب لیگ امریکی اور مغربی ممالک کے ایجنڈے پر عمل کر رہی ہے

عرب لیگ کے وزراء خارجہ نے شام کے خلاف متعدد پابندیاں عائد کر دی ہیں اور تمام رکن ممالک سے کہا ہے کہ وہ شام سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیں۔

قاہرہ میں عرب لیگ وزرائے خارجہ کے ایک ہنگامی اجلاس میں شام کی طرف سے اپنے شہریوں کے خلاف پرتشدد کارروائیاں جاری رکھنے کی پاداش میں اس پر متعدد پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

ادھر شام کے دارالحکومت دمشق میں عرب لیگ کے فیصلے کے بعد مظاہرین سعودی عرب کے سفارت خانے کے سامنے جمع ہوئے اور شام پر پابندی عائد کیے جانے کے فیصلے کے خلاف نعرے بازی کی۔

سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق مظاہرین نے سعودی سفارتخانے پر ہلہ بول دیا اور توڑ پھوڑ کی۔ سعودی عرب نے بھی شام پر پابندی عائد کیے جانے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

اس سے پہلے مظاہرین نے دمشق میں قطر کے سفارتخانے کے باہر بھی مظاہرہ کیا۔

عرب لیگ نے شام پر متعدد پابندیوں کے ساتھ اس کے تنظیم کے اجلاس میں شریک ہونے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔

عرب لیگ نے پابندیوں کا فیصلہ شام کی طرف سے بحالئِ امن سے متعلق عرب لیگ کی تجاویز پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے کیا ہے۔

عرب لیگ اور شام کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی رو سے شام اپنے شہریوں کے خلاف پرتشدد کارروائیاں روک دے گا اور ملک میں سیاسی اصلاحات پر اپوزیشن جماعتوں سے فوری بات چیت شروع کرے گا۔

عرب لیگ کے وزارئے خارجہ نے اپنے اجلاس اپنے تمام اراکین سے کہا ہے کہ وہ شام سے اپنے سفیر واپس بلا لیں۔ عرب لیگ نے شام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے خلاف تشدد کا سلسلہ فوری طور پر بند کرے۔

شام کے نمائندے نے عرب لیگ کے فیصلے کو تنظیم کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا۔ شام کے نمائندے یوسف احمد نے کہا کہ عرب لیگ مغربی اور امریکی ایجنڈے پر عمل کر رہی ہے۔

امریکی صدر براک اوباما اور یورپی یونین نے عرب لیگ کے فیصلے کو سراہا ہے اور مشکل گھڑی میں شام کے عوام کی مدد کا وعدہ کیا۔

گزشتہ ہفتے شام کے صدر بشار الاسد نے عرب لیگ کی اس تجویز کو مان لیا تھا کہ وہ تمام سیاسی قیدیوں کی رہا اور شہری علاقوں سے سکیورٹی فورسز انخلاء کریں گے۔ لیکن اس وعدے کے باوجود بھی سیکورٹی فورسز حکومت مخالف مظاہرین کو ہلاک کرتے رہے۔

اسی بارے میں