اٹلی: وزیراعظم برلسکونی مستعفیٰ

ماریو مونٹی تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ٹیکنو کریٹ ماریو مونٹی اٹلی کے نئے وزیر اعظم بننے کے امکانات روشن ہیں

اٹلی کے وزیر اعظم سلویو برلسکونی نے ایوان زیریں کی طرف اخراجات میں کمی کے پیکج کی منظوری کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

اٹلی کے صدر جارجو نیپولیتانو نے ان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ وہ جلد ٹیکنوکریٹ ماریو مونٹی کو وزیر اعظم مقرر کریں گے۔

ارب پتی برلسکونی پچھلے سترہ برسوں سےاٹلی کی سیاست پر چھائے ہوئے ہیں۔ اٹلی کے ذرائع ابلاغ کا ایک بڑا حصہ اور ایک بڑے فٹ بال کلب کے مالک سلویو برلسکونی کچھ عرصے سے بدعنوانی، اختیارات کا ناجائز استعمال، کم عمر لڑکیوں کے سیکس اور سیکس کے رقم کی ادائیگی جیسے الزامات کا سامنا کرتے رہے۔ سلویو برلسکونی اطالوی اشرفیہ کے لیے ناپسندیدہ لیکن عام لوگوں کے پسندیدہ رہنماء ہیں۔

اطالوی وزیر اعظم جو یوروزن میں آنے والے مالیاتی بحران کی وجہ سے پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت کھو چکے تھے، گزشتہ ہفتے اپنے استعفے کی مشروط پیشکش کی تھی ۔ ان کا موقف تھا کہ اگر اطالوی سینٹ اور ایوان زیرین نے اخراجات میں کمی کی ان کی تجاویز کی منظوری دے دی تو وہ مستعفی ہو جائیں گے۔

سلویو برلسکونی دوسری جنگ عظیم کے بعد اٹلی کے سب سے لمبے عرصے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں وہ مختلف سکینڈلز میں پھنسے رہے۔

ارب پتی برلسکونی سترہ برسوں سےاٹلی کی سیاست پر چھائے رہے ہیں۔ اٹلی کے ذرائع ابلاغ کا ایک بڑے حصے اور ایک بڑے فٹ بال کلب کے مالک سلویو برلسکونی کو بدعنوانی، اختیارات کا ناجائز استعمال، کم عمر لڑکیوں سے جنسی تعلق اور سیکس کے رقم کی ادائیگی جیسے الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سلویو برلسکونی اطالوی اشرفیہ کے لیے ہمیشہ ناپسندیدہ لیکن عام لوگوں کے پسندیدہ رہنماء ہیں۔

روم میں بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جانسٹن کے مطابق سلویو برلسکونی جب اپنا استعفیٰ پیش کرنے صدراتی محل جا رہے تھے تو سڑک پر کھڑے مظاہرین نے ان پر آوازیں کسی اور انہیں مسخرا قرار دیا۔

اسی بارے میں