چین کا امیر طبقہ اور خواتین محافظ

کالے رنگ کے بزنس سوٹ میں ملبوس، چن ہائی رونگ ایک عام دفتر میں کام کرنے والی خاتون لگتی تھیں۔ لیکن اُن کے رویے کی ہوشیاری اور کان میں لگا آلہ کچھ اور بتا رہا تھا۔

گاڑی سے اُترتے ہی، پلک جھپکنے میں اُنھوں نے ارد گرد کا مکمل جائزہ لے لیا۔ گاڑی سے ایک امیر خاتون نکلیں جو کے چن اور اُن کی ساتھی کی عقابی حفاظت میں ایک قریبی بلڈنگ میں چلی گئیں۔

چین میں خواتین محافظوں کا رجحان بڑھتا جا رہا اور کم و بیش تین ہزار نجی سکیورٹی کمپنیاں یہ سہولت مہیا کرتی ہیں۔

چین میں دولت مند طبقہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ غریب اور امیر کے بڑھتے ہوئے تضاد کی وجہ سے عوام میں کچھ بدامنی بھی ہے۔

بڑھتے ہوئے اس دولت مند طبقے کا ایک بڑا حصہ خواتین کا ہے جو اس بدامنی سے محفوظ رہنا چاہتی ہیں۔ چنانچہ ذاتی محافظ مہیا کرنے والی کمپنیوں نے خواتین کو ہی اس کام کی تربیت دینا شروع کر دی ہے۔ ایسی ہی ایک کمپنی کی بانی ون قوئی ہیں۔

ون قوئی کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ کاروبار ذاتی تلخ تجربات کی وجہ سے شروع کیا۔ انہیں کاروباری دوروں پر دو دفعہ لوٹا گیا۔ قوئی کے خیال میں خاتون محافظ ایک بہن کی طرح ہوتی ہے جو حفاظت کے ساتھ ساتھ آپ کا خیال بھی رکھ سکتی ہیں۔

’خواتین کے لیے خاتون محافظ کا یہ فائدہ بھی ہے کہ وہ آپ کے کمرے میں بھی رہ سکتی ہیں اور لوگوں پر کوئی غلط تاثر نہیں پڑتا۔‘

ون قوئی کو تیس نئی خواتین محافظ تیار کرنے کا آرڈر ملا ہے۔ وہ مجموعی طور پر ساٹھ محافظین تیار کر رہی ہیں جنہیں سابق فوجی تربیت دیتے ہیں۔ چھ مہینے کے اس کورس میں اُنہیں کنگ فو لڑائی، نگرانی اور ابتدائی طبی امداد سکھائی جاتی ہے۔

ایک فائدہ مند پیشہ؟

اُنیس سالہ زینجیانگ، جو کے تربیتی طور پر ایک اکاؤنٹنٹ ہیں، نے بھی محافظ بننے کا ارادہ کیا ہے۔ اگرچہ اُن کے والدین کی طرف سے اُن پر کافی دباؤ ہے کہ وہ کوئی روایتی نوکری کریں، پھر بھی زینجیانگ اپنے اس خواب کو پیشہ بنانا چاہتی ہیں۔

’میں نے بچپن میں بہت سی ایکشن فلمیں دیکھیں۔ میں بالکل اُن جیسا بننا چاہتی تھی۔‘

قابل محافظوں کے لیے تو مالی طور پر بھی یہ ایک مفید پیشہ ہے۔ کمپنیاں ہر محافظ کا روزانہ تقریباً تین سو ڈالر لیتی ہیں جبکہ محافظ دن کا سو ڈالر تک بنا لیتی ہیں۔ گولڈ پیکج میں چھ محافظ اور دوگاڑیاں آتی ہیں اور اس کی قیمت تین ہزار ڈالر روزانہ تک ہے۔

ایک کاروباری خاتون جو اکثر یہ سہولت استعمال کرتی ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ ذاتی محافظوں کے ساتھ کافی محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ ’میرے کچھ دوست تنازعات میں ملوس تھے اور اُنھیں اغوا کر لیا گیا۔ یہاں پر رہنا خطرناک ہو سکتا ہے چنانچہ جب میرا کاروبار بڑھا میں نے محسوس کیا کہ مجھے محافظوں کی ضرورت ہے۔ محافظوں کو رکھنے کا ایک اور فائدہ یہ ہے لوگ آپ کی عزت بھی زیادہ کرتے ہیں۔‘

چین میں دولت تو بڑھتی جا رہی ہے مگر غربت کا غم و غصہ بھی بڑھ رہا ہے۔ ایسے حالات میں خواتین محافظوں کا کاروبار کافی تیزی سے بڑھتا دکھتا ہے۔

اسی بارے میں