لویہ جرگے کا سکیورٹی پلان ہمارے پاس: طالبان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption طالبان نے لویہ جرگے کو غلاموں کا جرگہ قرار دیا ہے

افغانستان میں طالبان کا کہنا ہے کہ انہوں نے رواں ہفتے کابل میں شروع ہونے والے لویہ جرگے کے موقع پر حکومت کا تیار کردہ سکیورٹی کا منصوبہ حاصل کرلیا ہے۔

اس دستاویز میں لگتا ہے کہ اہم افراد کے لیے کیے جانے والے سکیورٹی کے انتظامات کی ایک لمبی فہرست ہے۔

افغانستان کے سکیورٹی اہلکاروں نے ایسی دستاویز کے اصل ہونے کی تردید کی ہے۔

کابل میں بی بی سی نامہ نگار اورلا گوئرین کا کہنا ہے کہ اگر سکیورٹی کا اصل منصوبہ طالبان کے ہاتھ لگ گیا ہے تو یہ افغانستان کی حکومت کے لیے بڑی شرمندگی کی بات ہوگی۔

طالبان کی جانب سے ستائیس صفحات پر مشتمل سکیورٹی کے منصوبے کی نقول میڈیا کو فراہم کی گئیں جن میں بظاہر صدر حامد کرزئی اور افغانستان کے وزراء کے لیے سکیورٹی کے انتظامات کی فہرست شامل ہے۔

اس کے علاوہ ان صفحات میں ایک اور فہرست ہے جس میں سکیورٹی کے اہلکاروں کے نام ان کے عہدوں اور ذمہ داریوں کے ساتھ درج ہیں اور ایک نقشہ بھی موجود ہے جو بظاہر پولیس کے لیے بنایا گیا ہے۔

تاہم کابل پولیس کے سربراہ جنرل ایوب اور ایک اور اعلٰی انٹیلیجنس کے افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان کے پاس حکومت کا تیار کردہ سکیورٹی کا منصوبہ نہیں ہے۔

جنرل ایوب نے کہا کہ یہ ان لوگوں کی سازش ہے جو لویہ جرگے کا انعقاد نہیں چاہتے۔

اگر سکیورٹی کا منصوبہ طالبان کے ہاتھ میں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ لویہ جرگے میں شرکت کرنے والے تقریباً دو ہزار افراد کی جانوں کا خطرہ ہے۔

طالبان نے لویہ جرگے کو غلاموں کا جرگہ قرار دیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ وہ اس پر حملہ کریں گے۔

لویہ جرگے کے ایجنڈے میں دو نکات اہم ہیں۔ پہلا شدت پسندوں سے مصالحت کا معاملہ ہے اور دوسرا مستقبل میں افغانستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کا تعین ہے۔

اسی بارے میں