جہیز کے مطالبے پر دس منٹ بعد علیحدگی

فرزانہ یاسمین
Image caption جو لوگ جہیز مانگنے پر یقین رکھتے ہیں وہ سماج کے لیے کینسر ہیں:فرزانہ

بنگلہ دیش میں حقوقِ انسانی کے لیے سرگرم گروپوں نے اس خاتون کی پذیرائی کی ہے جس نے شادی کے کچھ ہی منٹ بعد جہیز مانگنے پر اپنے شوہر کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا تھا۔

یہ واقعہ بنگلہ دیش کے جنوبی ضلع برگونہ میں اس وقت پیش آیا جب فرزانہ یاسمین نامی نوبیاہتا خاتون کے سسرال والوں نے اس وقت تک رخصتی کرنے سے انکار کر دیا جب تک انہیں ٹی وی اور ریفریجریٹر جیسے تحائف نہیں دیے جاتے۔

فرزانہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے شوہر اور سسرال والوں کے مطالبے پر ان کی بہن نے کہا کہ ’ہم صرف آپ کو لڑکی دیں گے اور بقیہ کسی چیز کا وعدہ ہم نے نہیں کیا تھا‘۔

فرزانہ کے مطابق وہ اپنی سسرال والوں کے مطالبات سن کر ہکا بکا رہ گئیں اور جبھی انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ نہیں جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ’جو لوگ جہیز مانگنے پر یقین رکھتے ہیں وہ سماج کے لیے کینسر ہیں‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ مجھ اکیلی کے اس طرح کا فیصلہ کرنے سے ہزاروں لاکھوں لڑکیوں کی زندگی شاید نہیں بدلےگي لیکن کم سے کم میں اپنے لیے تو یہ فیصلہ کر کے انہیں ہمت دلا ہی سکتی ہوں‘۔

انسانی حقوق کی تنظیم آسك رائٹس گروپ سے وابستہ سلطانہ کمال کا کہنا ہے کہ ’فرزانہ ياسمين نے جہیز کے مطالبے کی صورت میں کیے جا رہے ظلم کے خلاف ایک باہمت قدم اٹھایا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’فرزانہ نے جہیز جیسی رسم کے خلاف آواز اٹھا کر خاصی ہمت دکھائی ہے اور ان کے معاملے نے یہ ثابت کیا ہے کہ جہیز کی رسم لڑکی اور خاندان کے لیے کتنی تکلیف دہ ہے‘۔

ادھر شادی کے کچھ منٹوں بعد ہی جہیز کے لالچی شوہر سے علیحدگی کے اس واقعہ پر بنگلہ دیش کی کچھ سخت گیر تنظیموں نے ياسمين کی مخالفت بھی کی ہے اور اس معاملے نے بنگلہ دیش میں اتنا طول پکڑ لیا ہے کہ فیس بک پر ياسمين کے حامیوں اور مخالفین میں دلائل کی ایک جنگ سی چھڑ گئی ہے۔

فرزانہ بھی اس واقعے کے بعد گاؤں میں اپنا گھر چھوڑ کر دارالحکومت ڈھاکہ میں اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے گھروں میں قیام پذیر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اب اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں جہیز لینا اور دینا قانوناً جرم ہے لیکن یہ روایت اور چلن آج بھی قائم ہے۔