امریکہ کا شام پر عالمی دباؤ کا خیر مقدم

Image caption امریکہ نے شام پر عالمی دباؤ میں اضافے کا خیر مقدم کیا ہے

امریکہ نے عرب ملک شام کے صدر بشار الاسد پر استعفٰی دینے کے لیے عالمی دباؤ کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ روس نے عرب لیگ میں شام کی رکنیت کے منجمد کیے جانے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔

امریکی صدارتی محل وائٹ ہاؤس کے ترجمان جاش ارنسٹ نے شام کی تازہ صورتحال پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عرب لیگ سے شام کی رکنیت منجمد کیے جانے کے بعد یہ عرب ملک تیزی سے عالمی تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔

امریکی صدارتی ترجمان نے کہا ’ہم ظاہر ہے کہ عرب لیگ کے اس فیصلے کی خیر مقدم کرتے ہیں۔ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ صدر اسد کی حکومت تیزی کے ساتھ تنہائی کا شکار ہو رہی ہے اور ان پر سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس بارے میں صدر اوباما کا موقف بہت واضح ہے اور وہ یہ کہ بشارالاسد شام پر حکومت کرنے کا جواز کھو چکے ہیں اس لیے انہیں اقتدار سے علٰیحدہ ہو جانا چاہیے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’(شام میں) حکومت مخالف مظاہرین پر تشدد کا سلسلہ بند ہو جانا چاہیے۔ امریکہ، عالمی طاقتیں اور عرب لیگ شامی عوام کی جمہوری نظام کی جانب منتقلی کی کوششوں میں ان کے ساتھ ہیں۔‘

امریکہ سمیت کئی مغربی ملکوں نے بھی صدر بشارالاسد سے کہا ہے کہ وہ اقتدار میں رہنے کا جواز کھو چکے ہیں اور انہیں حکومت سے الگ ہوجانا چاہیے۔

پیر کو یورپی یونین نے شام پر عائد کی گئی پابندیوں کو مزید سخت کردیا ہے۔

برسلز میں ہونے والے وزارء خارجہ کے اجلاس میں شام کے اٹھارہ حکومتی اہلکاروں اس فہرست میں شامل کردیا ہے جن پر سفر کرنے پر پابندی عائد ہے اور جن کے اثاثے منجمد کردیے گئے ہیں۔ اس فہرست میں ان اٹھارہ افراد کی شمولیت کے بعد اب مجموعی طور پر چوہتر افراد پر پابندی عائد کی جاچکی ہے جو صدر بشارالاسد کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔

اجلاس میں یورپی انوسٹمنٹ بینک کی جانب سے شام کو دیے جانے والے قرضوں کو بھی منجمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

شام کی عرب لیگ میں رکنیت منجمد کیے جانے کے فیصلے کی روس نے البتہ مذمت کی ہے۔ روس کے وزیر خارجہ سرائیوو لاروف کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ قطعی درست نہیں ہے۔

روسی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہا ’جن لوگوں نے یہ فیصلہ کیا ہے انہوں نے اس عمل کو مزید شفاف بنانے کا موقع گنوا دیا۔‘

انہوں نے کسی ملک یا فریق کا نام لیے بغیر کہا ’کوئی نہیں چاہتا کہ شام کے عوام اپنا فیصلہ خود کریں۔‘

روسی وزیرِ خارجہ نے مغربی طاقتوں پر الزام لگایا کہ ان کا مقصد شام میں حزبِ اختلاف کی پشت پناہی کرکے حکومت کی تبدیلی ہے۔

اس سے پہلے اردن کے شاہ عبداللہ نے بی بی سی کو ایک خصوصی انٹرویو میں کہا تھا کہ بشارالاسد کو ملک کے وسیع تر مفاد میں مستعفی ہو جانا چاہیے۔

شام میں پیر کو ہونے والے تشدد کے تازہ واقعات میں اکیاون افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ صدر بشارالاسد کے خلاف ایک محاذ بنایا گیا ہے جس کا نام مقامی رابطہ کمیٹی ہے اور اس کے مطابق اکیاون افراد میں سے اکیس نسبتاً پرامن صوبے درعا میں ہلاک ہوئے ہیں جبکہ تیرہ افراد حمص شہر میں مارے گئے ہیں۔

اسی بارے میں