ترک وزیراعظم کی شامی حکومت پر تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ترکی نے شام کے ساتھ تیل کی تلاش کا مشترکہ پروگرام بھی روک دیا ہے

عالمی رہنماؤں کی جانب سے شام میں عوام پر تشدد کی مذمت اور صدر بشار الاسد سے اقتدار چھوڑنے کے مطالبات میں تیزی آئی ہے اور اب ترکی کے وزیراعظم نے شام میں جاری تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔

منگل کو ترک وزیراعظم رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ کوئی بھی حکومت اپنے مخالفین کو قتل کر کے یا انہیں قید کر کے برقرار نہیں رہ سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ شام کے مستقبل کی بنیاد کچلے ہوئے عوام کے خون پر نہیں رکھی جا سکتی۔

انہوں نے یہ بات ترکی کی جانب سے شام کے ساتھ تیل کی تلاش کے مشترکہ پروگرام کی معطلی کے بعد کہی ہے۔

اس سے قبل پیر کو اردن کے شاہ عبداللہ نے بی بی سی کو ایک خصوصی انٹرویو میں کہا تھا کہ شامی صدر بشارالاسد کو ملک کے وسیع تر مفاد کے لیے مستعفی ہو جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا ’میرے خیال میں اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو میں اقتدار سے علیحدہ ہو جاتا اور اس بات کو یقینی بناتا کہ جو بھی میری جگہ آئے وہ اس قابل ہو کہ وہ موجودہ صورتحال تبدیل کر سکے‘۔

ادھر شام کی عرب لیگ کی رکنیت کی معطلی کے بعد تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ بدھ کو مراکش میں ملاقات کر رہے ہیں۔

شام کی جانب سے رکنیت کی معطلی پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ شامی وزیر خارجہ ولید المعلم نے اس اقدام کو ایک خطرناک قدم قرار دیا اور کہا ہے کہ یہ اقدام امریکی دباؤ میں لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام اپنے موقف سے نہیں ہٹے گا اور شام کے خلاف کی جانے والی سازشیں ناکام ہوں گی۔

اسی بارے میں