تشدد کا خاتمہ، شام کو تین دن کی مہلت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بظاہر اس محاذ پر عرب لیگ کی کوششیں بند گلی میں پہنچنے والی ہیں:شیخ حمد آل ثانی

عرب لیگ نے شام کو حکومت مخالف مظاہرین پر تشدد بند کرنے اور مبصرین کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے کے لیے تین دن کی مہلت دی ہے۔

قطر کے وزیرِ خارجہ شیخ حمد بن جاسم آل ثاني نے کہا ہے کہ اگر شام اب بھی تعاون نہیں کرتا تو اسے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مراکش میں عرب لیگ کے اجالاس کے موقع پر قطری رہنما نے کہا کہ سفارتی کوششیں بند گلی میں پہنچنے کے قریب ہیں۔

اس اجلاس کے موقع پر شام کے دارالحکومت دمشق میں مشتعل ہجوم نے مراکش اور متحدہ عرب امارات کے سفارتخانوں پر دھاوا بولا ہے۔

ادھر شام کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا سامنا اس وقت کرنا پڑا ہے جب فرانس نے شام سے اپنا سفیر واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔

فرانسیسی وزیرِ خارجہ الین جوپ نے فرانسیسی پارلیمان کو بتایا کہ ’شام میں تشدد جاری ہے جس کی وجہ سے ہم الیپو اور لطاقیہ میں اپنے قونصل خانے بند کر رہے ہیں اور اپنے سفیر کو واپس پیرس بلا رہے ہیں‘۔

مراکش میں عرب لیگ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قطری وزیرِ خارجہ نے کہا کہ عرب لیگ کی تجویز کو ’آخری سفارتی کوشش نہیں کہنا چاہیے کیونکہ میں تنبیہی انداز اختیار نہیں کرنا چاہتا‘۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ’میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ بظاہر اس محاذ پر عرب لیگ کی کوششیں بند گلی میں پہنچنے والی ہیں‘۔

شام کے ہمسایہ ملک ترکی نے بھی مراکش کے شہر رباط میں ترک عرب تعاون فورم کے اجلاس کے بعد ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ شام شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ترکی اور عرب ممالک شام میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کے حق میں نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دمشق میں بدھ کو صدر بشارالاسد کے حق میں بھی ریلی نکالی گئی

عرب لیگ نے گزشتہ ہفتے شام کی رکنیت اس وقت معطل کر دی تھی جب شام تنظیم کے امن منصوبے پر عمل کرنے میں ناکام رہا تھا۔

اس منصوبے کے تحت شام کو شہروں سے ٹینک ہٹانے تھے، مظاہرین پر حملوں کا سلسلہ بند کر نا تھا اور دو ہفتے کی مدت میں حزبِ اختلاف کے رہنماؤں سے بات چیت کے سلسلے کا آغاز کرنا تھا۔ تاہم ان مطالبات کے برعکس اس منصوبے کے سامنے آنے کے بعد شام میں تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

شامی حکومت نے غیر ملکی صحافیوں پر سخت پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے تشدد کے واقعات کی تصدیق انتہائی مشکل ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اس برس مارچ میں شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد سے اب تک ساڑھے تین ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ شامی حکومت تشدد کے واقعات کی ذمہ داری مسلح گروپوں اور شدت پسندوں پر ڈالتی ہے۔

اسی بارے میں