جوہری پروگرام کے’عسکری رخ‘ پر خدشات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے

عالمی طاقتیں ایک ایسی قرارداد کے مسودے پر متفق ہو گئی ہیں جس میں ایران کے جوہری پروگرام پر ’بڑھتے خدشات‘ کی بات کی گئی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کی جانب سے یہ قرارداد ایسے وقت میں تیار کی گئی ہے جب ایران کے جوہری پروگرام کے عسکری رخ کے بارے میں نئے خدشات نے جنم لیا ہے۔

اس قرارداد کا مسودہ جمعرات کو جنیوا میں جوہری معاملات پر اقوامِ متحدہ کے نگران ادارے آئی اے ای اے کے اجلاس میں تیار ہوا اور اسی اجلاس میں اس پر مزید غور ہوگا۔

آئی اے ای اے نے اپنے خدشات دور کرنے کے لیے ایک اعلٰی سطح کا وفد ایران بھیجنے کی تجویز دی ہے۔

قرارداد کے مسودے میں ایران کے جوہری پروگرام کے حل طلب معاملات پر خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ ان معاملات میں اس پروگرام کے ممکنہ عسکری رخ کی موجودگی بھی شامل ہے۔

اس قرارداد میں ایران سے یہ بھی کہنا گیا ہے کہ وہ دنیا کو یہ یقین دلانے کے لیے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، مذاکرات کے سلسلے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور کسی قسم کی شرائط نہ رکھے۔

ویانا میں بی بی سی کی بیتھنی بیل کا کہنا ہے کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مسودے میں یہ معاملہ سلامتی کونسل میں رپورٹ نہ کرنے کی بات کی گئی ہے۔ اگر ایسا کیا جاتا تو ایران پر مزید پابندیاں لگ سکتی تھیں۔

گزشتہ ہفتے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں آئی اے ای اے نے کہا تھا کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی ڈیزائننگ پر کام کر رہا ہے۔ تاہم ایران کا کہنا ہے کہ وہ جوہری ٹیکنالوجی کو پرامن مقاصد کے لیے استعمال کررہا ہے۔

امریکہ ایران پر سخت پابندیوں کا حامی ہے تاہم روس اس اقدام کی حمایت نہیں کرتا جبکہ چین کا کہنا ہے کہ پابندیاں مسئلے کا حل نہیں ہیں۔

اسی بارے میں