اوباما کی ایشیائی بحرالکاہل پر توجہ مرکوز

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ اب اپنی توجہ اس خطے کی جانب مرکوز کررہا ہے

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ایشیائی بحرالکاہل کا خطہ دنیا کے مستقبل کے کردار کو واضح کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

یہ بات انہوں نے آسٹریلوی پارلیمان میں تقریر کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے چین کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ’امریکہ بحرالکاہل کی طاقت ہے اور ہم یہاں رہیں گے۔‘

ان کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب آسٹریلیا پہلے ہی آنے والے برسوں میں امریکی فوج کی میزبانی کرنے پر رضامندی ظاہر کرچکا ہے۔

چین امریکی اقدام کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا ہے اور کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی اقدام خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا جواب ہے۔

آسٹریلیا کے شہر کینبرا میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ اب اپنی توجہ اس خطے کی جانب مرکوز کررہا ہے۔

انہوں نے کہا ’کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ اکیسویں صدی میں ایشیائی بحرالکاہل میں امریکہ پوری طرح موجود ہے۔‘

براک اوباما نے کہا کہ اپنے رقبے، وسائل اور معاشی ترقی کے اعتبار سے ایشیائی بحرالکاہل کے ممالک نے حالیہ برسوں میں عالمی طور پر اہم کردار ادا کیا ہے۔

امریکی صدر نے کہا ’ہم بیجنگ کے ساتھ تعاون کے مزید مواقع تلاش کریں گے جن میں ہماری فوجوں کے درمیان وسیع تر روابط بھی شامل ہوں گے۔‘

ان کے بقول ’زیادہ تر جوہری قوتوں اور دنیا کی تقریباً نصف آبادی والا ایشیاء بڑی حد تک واضح کرے گا کہ اس صدی میں تنازعات ہوں گے یا تعاون، غیرضروری تکالیف ہوں گی یا انسانی ترقی ہوگی۔‘

بحرالکاہلی ریاست ہونے کے ناطے امریکہ اس خطے میں اہم اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے اتحادیوں اور دوستوں کی قریبی پارٹنرشپ کے ساتھ ایک بڑا اور طویل المدت کردار ادا کرے گا۔

امریکی صدر نے کہا کہ خلیجِ کوریا میں اسلحہ کے پھیلاؤ کو روکنے اور کشیدگی میں کمی کے لیے چین امریکہ کا پارٹنر بن سکتا ہے۔

انہوں نے چین میں حکام سے کہا ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption خطے میں فوجی قوت میں اضافے کے لیے امریکہ نے آسٹریلیا سے معاہدہ کیا ہے

ان کے بقول ’ہم اس سلسلے میں چین سے بات کرتے رہیں گے اور انہیں عالمی روایات کو برقرار رکھنے کی اہمیت اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے تحت چین کے عوام کے احترام کے بارے میں بھی ان سے بات کریں گے۔‘

آسٹریلیا میں امریکی فوج کی موجودگی میں اضافے کا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان ایسے وقت ہوا ہے جب خطے کے ممالک بحرالکاہل کے علاقے میں چین کے بڑھتے ہوئے فوجی اثر و رسوخ سے تشویش میں مبتلا ہیں۔

آسٹریلیا کی وزیراعظم جولیا گیلارڈ نے کہا ہے کہ خطے میں امن اور استحکام کا قیام اس کی معاشی ترقی اور کامیابی کے لیے انتہائی اہم ہے۔

تاہم اس بارے میں خدشات موجود ہیں کہ جب امریکہ اپنے قرضوں کے حجم کو کم کرنے کے لیے اپنے دفاعی اخراجات میں کمی کرنے کی کوشش کرے گا تو وہ اس خطے میں اپنی فوج کی تعداد میں بھی تخفیف کرے گا۔

تاہم براک اوباما نے ان خدشات کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس خطے میں کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔