امریکی شہری صدر کے قتل کی کوشش کا ملزم

آسکر ہرنینڈز تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آسکر ہرنینڈز پر واشنگٹن میں مقدمہ چلایا جائے گا

واشنگٹن میں امریکی صدر کی رہائش گاہ پر فائرنگ کے مشتبہ ملزم پر صدر براک اوباما یا ان کے عملے کسی رکن کو قتل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کر دیا گیا ہے۔

ریاست اداہو سے تعلق رکھنے والے اکیس سالہ آسکر اورٹیگا ہرنینڈز کو جمعرات کو ریاست پنسلوینیا کے شہر پٹس برگ میں عدالت میں پیش کیا گیا۔

انہیں بدھ کو پٹس برگ سے ہی گرفتار کیا گیا تھا اور اب انہیں مقدمے کا سامنے کرنے کے لیے واشنگٹن منتقل کر دیا جائے گا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع نے بتایا ہے کہ آسکر ہرنینڈز کا ماننا ہے کہ خدا نے خود اسے وائٹ ہاؤس پر حملہ کرنے کا کام سونپا تھا۔ امریکی پولیس کے مطابق ملزم ذہنی طور پر ٹھیک نہیں اور اس کا رویہ پرتشدد ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ جمعہ کو دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کی آوازیں سنی گئی تھیں اور بعد ازاں پولیس کو علاقے سے ایک کار ملی تھی جس میں ایک خودکار رائفل موجود تھی۔

منگل کو یہ بتایا گیا تھا کہ پولیس کو وائٹ ہاؤس کے اس جنوبی حصے سے دو گولیاں ملی ہیں جہاں امریکی صدر کی خواب گاہ ہے۔

ان میں سے ایک گولی کے وائٹ ہاؤس کی کھڑکی کا بیرونی شیشہ توڑا تاہم اندرونی حفاظتی شیشے نے اسے روک لیا جبکہ دوسری گولی عمارت کے بیرونی حصے میں لگی تھی۔

جس وقت یہ فائرنگ ہوگئی صدر اوباما اور ان کی اہلیہ عمارت میں موجود نہیں تھے۔

امریکی سیکرٹ سروس کے حکام نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ فی الحال حتمی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان گولیوں اور جمعہ کو ہونے والی فائرنگ کا واقعے کا آپس میں تعلق ہے۔