شرکاء کا کمیٹی 39 میں بیٹھنے سے انکار

افغانستان میں جاری لویہ جرگہ کے منتظمین نے شرکاء کو چالیس گروپس میں بانٹ رکھا ہے۔ لیکن منتظمین کو اکتالیس گروپ اس وقت کرنے پڑے جب عمائدین نے اس گروپ میں بیٹھنے سے انکار کردیا جس کا نمبر 39 تھا۔

گروپ نمبر 39 میں شامل عمائدین نے اس گروپ میں اس لیے بیٹھنے سے انکار کردیا کیونکہ افغانیوں میں یہ نمبر دلال سے منسوب ہے۔

عمائدین کے انکار کے باعث اس گروپ کا نمبر اکتالیس کرنا پڑا۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ نمبر دلال سے اس وقت منسوب ہوا جب ایک دلال کی گاڑی کا نمبر 39 تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار بلال سروری نے بتایا کہ گروپ 39 میں شامل ایک رکن نے کہا ’میں نہیں چاہتا کہ میں جب اپنے علاقے واپس جاؤں تو مجھے دلال کہا جائے۔مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے کہ یہ صحیح ہے یا غلط لیکن میرے علاقے کے لوگوں کا اس پر یقین ہے۔ دیکھیں میرے علاقے میں کوئی بھی وہ گاڑی رکھنے کو تیار نہیں جس کا نمبر 39 ہو اور آپ لوگ مجھ سے یہ توقع کرتے ہیں کہ میں گروپ 39 کا حصہ بنوں۔‘

تاہم چند اراکین ایسے بھی تھے جن کے خیال میں یہ احتجاج غیر ضروری تھا۔

شمالی افغانستان سے آئے ایک ارکان نے کہا ’افسوس ہے کہ اس اہم اجلاس میں اس قسم کے مسئلے اٹھائے جا رہے ہیں۔ ہمارے پاس اس سے کہیں زیادہ اہم ایشو ہیں جن پر بات کرنی ضروری ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’میں نے جب یہ بات کہی تو ہر ایک نے مجھے خاموش رہنے کا کہا۔ سب نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کو دلال کہا جائے۔ یا ان کے اہلِ خانہ اور بچوں کو چھیڑا جائے۔ اسی لیے گروپ نمبر اکتالیس تشکیل کیا گیا۔‘

لویہ جرگہ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ طالبان کے ساتھ مفاہمت اور افغان - امریکہ تعلقات کے مستقبل پر بات کرنے کے لیے اتنے اہم اجلاس میں اس نمبر کو لے کر اتنا مسئلہ بنے گا۔

’ہمیں چالیس کمیٹیاں یا گروپ بنانے تھے اور ہم نے چالیس ہی بنائے۔ لیکن ہم نے اس خاص مسئلے کے لیے خاص حل نکالا ہے۔‘

اسی بارے میں