مصر میں فوج کے خلاف عوام سڑکوں پر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مظاہرین سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف تحریک کے مرکز التحریر سکوائر میں اکھٹے ہوئے

مصر میں دارالحکومت قاہرہ اور اسکندریہ میں دسیوں ہزاروں افراد نے ملک کے فوجی حکمرانوں کے خلاف مظاہرے کیے ہیں۔

مصر کی فوجی کونسل نے حال ہی میں متنازعہ آئینی اصلاحات کی تجاویز دی ہیں جس کے بعد مصری عوام کو خدشہ ہے کہ فوج اقتدار پر قبضہ جمانے کی کوشش کر رہی ہے۔

جمعہ کو قاہرہ میں ہونے والے مظاہرے میں مذہبی جماعتوں کے کارکن پیش پیش رہے جبکہ دوسری جماعتوں کی شرکت بھی قابلِ ذکر رہی۔ یہ مظاہرین آئینی اصلاحات کی تجویز واپس لینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

یہ مظاہرین اسی التحریر سکوائر میں اکھٹے ہوئے جہاں سے شروع ہونے والے مظاہرے صدر حسنی مبارک کے اقتدار سے علیحدگی کا سبب بنے تھے۔

فروری میں حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے مصر میں حکومت ایک فوجی کونسل کے ہاتھ میں ہے۔ اب مصری کابینہ چاہتی ہے کہ آئینی اصلاحات کر کے فوج کو آئینی حکمرانی کا نگران بنا دیا جائے۔

تاہم اس تجویز کے ناقدین کا خیال ہے کہ یہ نئے صدر کے انتخاب کے بعد بھی ملک کی اہم پالیسیوں میں فوج کو حرفِ آخر کی حیثیت دینے کی کوشش ہے۔

مصر میں رواں ماہ کے اختتامی ہفتے میں انتخابات کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے اور گزشتہ ہفتے مصر کی ایک اعلیٰ عدالت نے صدر مبارک کی جماعت میں شریک لوگوں پر انتخابات میں حصہ لینے پر عائد پابندی کو ختم کر دیا تھا۔

اسی بارے میں