عرب لیگ نے شام کے مطالبے کو مسترد کردیا

عرب لیگ کی میٹنگ کی ایک فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عرب لیگ نے شام کو عوام کے خلاف تشدد ختم کرنے کے لیے جو ڈیڈلائن دی تھی وہ ختم ہوچکی ہے

عرب لیگ نے شام کے اس مطالبے کو مسترد کردیا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ عرب ليگ نے شام کے لیے جو امن منصوبہ بنایا ہے اس میں ردوبدل کیا جائے۔

شام چاہتا تھا کہ عرب لیگ اس منصوبے میں رد و بدل کرے جس کے تحت وہ پانچ سو مبصرین کے ایک مشن کو شام بھیجنا چاہتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق شام چاہتا تھا کہ مبصرین کی تعداد پانچ سو سے کم کر کے چالیس کردی جائے لیکن عرب لیگ نے ایک بیان جاری کر کے کہا تھا کہ ایسا کرنے سے ان کا مقصد متاثر ہوگا۔

شام میں حکومت مخالفت مظاہروں میں اب تک تقریبا چار ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔

عرب لیگ کی طرف سے شام کو عوام کےخلاف طاقت کے استعمال کو روکنے کے لیے دی جانے والی ڈیڈ لائن ختم ہو گئی ہے اور ملک میں تشدد کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔

عرب لیگ نے شام کی حکومت کو ڈیڈ لائن دی تھی کہ وہ سنیچر کی نصف شب تک مظاہرین کے خلاف تشدد کا سلسلہ مکمل طور پر روک دے ورنہ اسے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

لیکن اطلاعات کے مطابق سنیچر کو شامی سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں مزید چوبیس افراد مارے گئے ہیں۔

شام کے صدر بشار الاسد نے کہا تھا کہ وہ غیر ملکی دباؤ کے سامنے سرنگوں نہیں ہوں گے اور تشدد پھیلانے والے مسلح گروہوں سے نمٹنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے عرب لیگ پر الزام لگایا کہ وہ شام میں مغربی مداخلت کا میدان تیار کر رہی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر ایسا ہوا تو اس سے مشرقِ وسطٰی میں زلزلہ آ جائے گا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عرب لیگ کے امن منصوبے پر عمل نہیں ہو رہا ہے حالانکہ پوری دنیا اس منصوبے کو شام میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے بہترین حل کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

شام کے دارالحکومت دمشق میں اتوار کے روز حکمراں بعث پارٹی کے دفتر پر کم سے کم دو راکٹ داغے گئے ہیں۔

آٹھ ماہ سے صدر بشار الاسد کے خلاف جاری بغاوت کے دوران دمشق میں ہونے والا باغیوں کا یہ ایسا پہلا حملہ ہے۔ فری سیرین آرمی نامی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

شام میں غیر ملکی صحافیوں کا داخلہ ممنوعہ ہے اور جو غیر ملکی صحافی وہاں موجود ہیں وہ آزادی سے اپنا کام نہیں کرسکتے ہیں اسی لیے شام سے موصول ہونے والی خبروں کی آزادانہ تصدیق ہونا مشکل ہے۔

شام نے جمعہ کو عرب لیگ کے امن منصوبے کو اصولی طور پر منظور کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ صرف مزید وقت حاصل کرنے کا ایک بہانہ ہے۔

عرب لیگ نےگزشتہ ہفتے اس وقت شام کی رکنیت کو منجمد کر دیا تھا جب وہ تنظیم کے امن منصوبے پر عمل کرنےمیں ناکام رہا تھا۔اس منصوبے کے تحت شام کو شہروں سے ٹینک ہٹانے، مظاہرین پر حملے بند کرنا اور دو ہفتے کی مدت میں حزبِ اختلاف کے رہنماؤں سے بات چیت کے سلسلے کا آغاز کرنا تھا۔

اسی بارے میں