مصر: تین روز کی جھڑپوں میں 20 افراد ہلاک

مصر، قاہرہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کا استعمال کیا

قاہرہ میں مردہ خانے کے افسران کے مطابق سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان سنیچر سے جاری جھڑپوں میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ان جھڑپوں میں تقریباً اٹھارہ سو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

اس سے پہلے اطلاعات تھیں کہ ان مظاہروں میں تینتیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں تاہم ہسپتال اور مردہ خانے کے اہلکاروں نے بتایا کہ چند اموات ان مظاہروں سے متعلق نہیں ہیں۔

مظاہرین کو تحریر سکوائر سے بار بار نکال باہر کرنے کی کوشش میں سینکڑوں فوجی اور پولیس اہلکار لوگوں پر ربڑ کی گولیوں اور اشک آور گیس کا استعمال کر رہے ہیں۔

سینکڑوں مظاہرین ابھی تک تحریر سکوائر میں موجود ہیں اور وہاں سے اب بھی تشدد کی اطلاعات آ رہی ہیں۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ فوج اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ساتھ ہی فوجی سربراہ کے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ ہفتے مظاہرین نے قاہرہ کے مرکزی تحریر سکوائر پر دوبارہ قبضہ کرلیا تھا جہاں سے انہیں سکیورٹی فورسز نے ہٹا دیا تھا۔

سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا تھا لیکن وہ ایک گھنٹے کے اندر مصر کے فوجی حکمرانوں کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے دوبارہ تحریر سکوائر پر جمع ہوگئے۔

یورپی یونین نے تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

قاہرہ کے علاوہ دیگر شہروں سے بھی سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئیں ہیں جن میں اسکندریہ، سوئز اور اسوان شامل ہیں۔

اتوار کو ہونے والی جھڑپوں میں محکمۂ صحت کے اہلکاروں کے مطابق گیارہ افراد جبکہ ہفتہ کو دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

مظاہرین میں چند گیس کے ماسک پہنے ہوئے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ مصر کے فوجی حکمران اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

یہ مظاہرے ایسے وقت ہو رہے ہیں جب کہ ایک ہفتے بعد ملک میں پہلی بار پارلیمانی انتخابات ہورہے ہیں۔ ان انتخابات کی راہ سابق صدر حسنی مبارک کی فروری میں اقتدار سے علٰیحدگی کے بعد ہموار ہوئی ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے مصری حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مظاہرین کے خلاف تشدد کو بند کرے۔

انہوں نے کہا ’میں امن اور برداشت کی درخواست کرتی ہوں اور تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اقتدار کی منتقلی کا عمل دشوار گزار ہوتا ہے۔‘

کیتھرین ایشٹن نے کہا ’میں اس بات کا اعادہ کرتی ہوں کہ عبوری حکام اور تمام متعلقہ جماعتوں کی یہ اہم ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو سُنیں اور ان کی جمہوری خواشات کا تحفظ کریں۔‘

قاہرہ میں بی بی سی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں حالیہ مہینوں میں ہونے والی شدید جھڑپیں ہیں۔

پارلیمانی انتخابات اٹھائیس نومبر کو منعقد کرائے جارہے ہیں۔

نومبر کے شروع میں مصر کے فوجی حکمرانوں نے ایک مجوزہ دستاویز تیار کی ہے جس میں نئے آئین کے رہنماء اصول متعین کیے گئے ہیں۔

ان رہنماء اصولوں کے تحت فوج کو سویلین غلطیوں پر اور اپنے بجٹ کی بابت استثنٰی حاصل ہوگا۔

مصری فوجی حکمرانوں کے ان اقدامات پر مظاہرین کو خدشہ ہے کہ جن مقاصد کے لیے انہوں نے سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف جدوجہد کی وہ اب رائیگاں ہوتی نظر آرہی ہے۔

اسی بارے میں