جنگی جرائم کے مقدمہ کی سماعت شروع

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدالت کے سامنے پیش ہونے والے پہلے ملزم جماعتِ اسلامی کے مقامی رہنماء دلاور حسین سیدی تھے ج

بنگلہ دیش میں سنہ انیس سو اکہتر کی جنگ کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کے ملزمان کے خلاف اپنی نوعیت کے پہلے مقدمے کی سماعت شروع ہوگئی ہے۔

سنہ انیس سو اکہتر میں اس وقت کے مشرقی پاکستان میں شورش کے دوران تیس لاکھ افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا تھا۔

اس خصوصی ٹریبونل میں ان بنگلہ دیشیوں کے خلاف مقدمات چلائیں جائیں گے جنہوں نے پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر بنگلہ دیش کو ایک آزاد ریاست بننے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔

ان جرائم کی سماعت کرنے والی عدالت کے سامنے پیش ہونے والے پہلے ملزم جماعتِ اسلامی کے مقامی رہنماء دلاور حسین سیدی تھے جن پر بنگالی عوام کی نسل کُشی، بنگالی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی اور مذہبی استحصال کے الزامات ہیں۔

دلاور حسین نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ بنگلہ دیشی حکومت انتقامی کارروائی کررہی ہے۔

بنگلہ دیش کے اٹارنی جنرل محبوبِ عالم کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش نے چالیس سال انتظار کیا ہے کہ یہ مقدمہ عدالت میں آئے۔

انہوں نے کہا ’ہم نے تحریک آزادی کے دوران کئی پروفیسروں، استادوں، فنکاروں، اور جواں سال بیٹوں کی قربانیاں دیں ہیں۔ تو اب یہ ہماری اخلاقی اور آئینی ذمہ داری ہے کہ ہم مجرموں کو کٹہرے میں لائیں۔‘

استغاثہ کے سربراہ غلام عارف ٹیپو کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ قانون اور جمہوریت کی بالادستی کے لیے انتہائی ضروری ہے اور یہ بنگلہ دیش کے مستقبل کی چابی ہے۔

حزبِ اختلاف کی دو بڑی جماعتوں کے اراکین سمیت مجموعی طور پر سات افراد اس مقدمہ کا سامنا کررہے ہیں۔ ان تمام ملزمان نے اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ان کے خلاف سیاسی انتقام لے رہی ہے۔

انسانی حقوق کے گروپوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مقدمہ کی کارروائی عالمی معیار کے مطابق ہو جس پر حکومت کا اصرار ہے کہ بنگلہ دیشی قوانین اور اس کا قانونی ڈھانچہ ایسے مقدمات سے نمٹنے کے لیے مکمل اہلیت رکھتا ہے۔

اسی بارے میں