کمبوڈیا، قتل عام معاملے کے مقدمےکا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کھمیر روج کا اقتدار سنہ نواسی میں ختم ہوگیا تھا

کمبوڈیا میں سنہ انیس سو ستّر کے عشرے میں ہوئے قتل عام کے معاملے میں کھمیر روج کے تین رہنماؤں کے خلاف عدالتی کارروائی کا آغاز ہوگيا ہے۔

جن رہنماؤں کے خلاف مقدمہ شروع ہوا ہے اس میں نون چی، جو برادر نمبر دو کے نام سے جانے جاتے ہیں، بھی شامل ہیں جو ماؤسٹ حکومت کے سربراہ پال پوٹ کے قریبی ساتھی رہے ہیں۔

کمیونسٹ حکومت کے سربراہ پال پوٹ کا سنہ انیس سو اٹھانوے میں انتقال ہوگیا تھا۔

تینوں سابق رہنماؤں کو، جو کہ اب اسّی برس کی عمر میں ہیں، قتل عام اور انسانیت کے خلاف جرائم کرنے جیسے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔

عدالت کے ترجمان رالس اولسین نے اسے میل کے پتھر سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ’بہت سے لوگوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایسا ہوگا۔‘

نون چی کے ساتھ ساتھ ملک کے سابق سربراہ کھیوسمپھن اور اس دور کی وزیر خارجہ لینگ سیری کے خلاف بھی مقدمہ شروع ہوا ہے۔ جبکہ ان تینوں نے تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔

ایک اور رہنما لینگ تھرتھ کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا لیکن صحت کی خرابی کی وجہ سے انہیں ان فٹ قرار دیا گيا ہے۔

استغاثہ نے عدالت کو بتایا ہے کہ ان رہنماؤں کے دور اقتدار میں کمبوڈیا کے لوگوں کو طرح طرح کی اذیتوں سے گزرنا پڑا تھا۔

ایک وکیل چی لینگ نے کہا کہ ’ کمبوڈيا کو غلامی کے ایک بڑے کیمپ میں تبدیل کردیا گيا جس سے ملک کی پوری آبادی قیدی بن کر رہ گئی اور لوگ ظلم و بریربیت میں زندگی گزارنے پر مجبور ر ہے۔‘

ایک تخمینے کے مطابق سنہ انیس سو پچھتر سے اناسی کے دوران کمبوڈیا میں تقریبا ستّرہ لاکھ لوگوں، یعنی ملک کی تقریبا ایک تہائي آبادی، کو یا تو قتل کیا گيا، یا پھر زیادہ کام لینے اور کھانا نا ملنے کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔

کھمیر روج نے کمبوڈیا میں سخت گیر کمیونسٹ نظام قائم کرنے کی کوشش میں عوام پر زبردست مظالم ڈھائے تھے۔ کھمیر روج کی حکومت سنہ انیس سو نواسی میں ختم ہوگئی تھی اور ان سینیئر رہنماؤں کے خلاف قانونی چارہ جوئی میں کافی وقت لگ گيا۔

کمبوڈیا نے نوے کے عشرے میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے قتل عام کے معاملے میں ٹرائبیونل کے قیام کے لیے کہا تھا۔ بالآخر سنہ دو ہزار چھ میں ایک مشترکہ ٹرائیبونل قائم ہوسکا۔

پیر کو عدالت کی کارروائی کو دیکھنے کے لیے سماج کے مختلف طبقے کے لوگ جمع ہوئے تھے۔ تینوں ملزمان بہت بوڑھے ہیں اور یہ کہنا مشکل ہے کہ اس مقدمہ میں کتنا وقت لگےگا۔

اسی بارے میں