تحریر سکوائر پر بڑے مظاہروں کی اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تین روز کے پرتشدد واقعات میں بیس افراد ہلاک جبکہ اٹھارہ سو کے قریب زخمی ہوچکے ہیں

مصر میں سرگرم احتجاجی کارکنوں نے ایک بار پھر بڑے پیمانے پر مظاہروں کے لیے لوگوں سے تحریر سکوائر پر جمع ہونےکی اپیل کی ہے۔

اس دوران فوج کی مقرر کردہ کابینہ کے استعفی کی پیشکش کے بعد ہزاروں لوگ تحریر سکوائر پر پہنچے ہیں۔

سیاسی گروپوں کے ایک محاذ نے فوجی حکومت پر '’انقلاب مخالف‘ مہم چلانے کا الزام عائد کیا ہے اور منگل کے روز تحریر سکوائر پر زبردست مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

ادھر عالمی حقوق انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے میں ناکام رہنے پر فوج پر نکتہ چینی کی ہے۔

تنظیم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مصر کے فوجی حکمرانوں نے ’انسانی حقوق کو بہتر کرنے کا جو وعدہ کیا تھا اس میں وہ پوری طرح ناکام رہے ہیں۔‘

اس سے قبل عوامی احتجاج کے بعد ملک کی کابینہ نے ملٹری کونسل کو استعفے پیش کیے تھے۔ کابینہ کے ترجمان محمد حجازی کا کہنا تھا کہ ملٹری کونسل کو جمع کرائے گئے استعفے اب تک منظور نہیں کیے گئے ہیں۔

جب وہ یہ بیان دے رہے تھے اس وقت ہزاروں کی تعداد میں لوگ قاہرہ کے تحریر سکوائر میں جمع تھے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں سے سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف احتجاجی مہم کا آغاز ہوا تھا۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں تین روز کے پرتشدد واقعات میں چھبیس افراد ہلاک جبکہ اٹھارہ سو کے قریب زخمی ہوچکے ہیں۔ قاہرہ کے علاوہ اسکندریہ سے بھی مظاہرے کی اطلاعات ہیں جہاں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کا استعمال کیا ہے۔

تحریر سکوائر پر ہزاروں کا مجمع پیر کی رات دیر تک موجود رہا۔ جبکہ کئی شرکاء نے رات تحریر سکوائر پر گزارنے کا فیصلہ کیا۔ عوامی احتجاج کے باعث سیاسی حلقوں میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔

مصر میں احتجاجی شرکاء فوجی کونسل سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ اختیارات سویلین حکومت کے حوالے کرے۔

مصر کے سرکاری خبررساں ادارے منٰی نے محمد حجازی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اعصام شرف کی حکومت نے فوج کی سپریم کونسل کو استعفے سونپ دیے ہیں۔

انہوں نے کہا ’ملک میں جاری کشیدہ حالات کے پیشِ نظر حکومت استعفوں کے منظور ہونے تک کام کرتی رہے گی۔‘

فوجی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ کابینہ کی جانب سے استعفوں کی پیشکش پر کونسل کا اجلاس ہورہا ہے تاہم اجلاس میں اب تک اس بات پر اتفاقِ رائے نہیں پایا جاتا کہ ان استعفوں کو منظور کرلیا جائے۔

ذرائع نے کہا کہ کونسل دیگر سیاسی گروپوں سے بھی مشاورتی عمل کررہی ہے۔

قاہرہ میں بی بی سی نامہ نگار یولینڈ نیل کا کہنا ہے کہ جب تحریر سکوائر پر مجمع تک خبر پہنچی کے کابینہ نے استعفٰی دے دیا ہے تو اس نے ’اللہ اکبر‘ کے نعرے بلند کیے۔

احتجاجی شرکاء نے یہ نعرہ بھی لگایا کہ عوام مارشل کی اقتدار سے علٰیحدگی چاہتے ہیں۔ مارشل سے ان کی مراد فیلڈ مارشل محمد تنتاوی ہیں جو فوج کی سپریم کونسل کے سربراہ ہیں۔

مصر میں اگلے ہفتے پارلیمانی انتخابات کا انعقاد ہونا ہے تاہم کئی لوگوں کا خیال ہے کہ مصری فوج اقتدار کی لگامیں تھامے رکھنا چاہتی ہے چاہے نتیجہ کچھ بھی ہو۔

پیر کی رات گئے حزبِ اختلاف کے گروپوں کے ایک اتحاد جن میں محمد البرادعی کے پیروکار بھی شامل ہیں، فوجی کونسل پر الزام عائد کیا کہ وہ ملک کو ایک اور انقلاب کی جانب دھکیل رہے ہیں۔

حزبِ اختلاف کے گروپوں نے منگل کو تحریر سکوائر پر عوامی احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

مصر میں تشدد کے اضافے پر امریکہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور تمام فریقوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنے نے کہا ’ہمیں تشدد پر انتہائی تشویش ہے۔‘

عرب لیگ کے سابق سکریٹری جنرل اور مصر میں صدارتی امیدوار امر موسٰی نے کہا ہے کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کسی طور بھی جائز نہیں ہے۔

اسی بارے میں