مظاہرین کے خلاف کارروائی پر مذمت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مظاہرین کے خلاف فورسز نے سخت کارراوائیاں کی ہیں

اقوام متحدہ نے مصر میں حکومت مخالف مظاہرین پر سکیورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے بےجا استعمال کرنے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی سربراہ نوئی پلائی نے پر تشدد مظاہروں کے دوران جو تیس افراد مارے گئے ہیں اس کی آزادنہ تفتیش کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

ادھر قاہرہ میں فوجی حکمرانوں کی جانب سے ملک میں اقتدار کی منتقلی کا عمل تیز کرنے کے اعلان کے باوجود تحریر سکوائر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور سکیورٹی فوسرز کے ساتھ جھڑپوں کی بھی خبریں ہیں۔

محترمہ پلائی نے ایک بیان میں کہا '' میں مصر کے حکام پر زور دیتی ہوں کہ تحریر سکوائر اور ملک کے دوسرے مقامات پر مظاہرین کے خلاف واضح بےجا طاقت کے استعمال کو ختم کیا جائے، بشمول غیر مناسب آنسوگیس، ربڑ اور اصلی گولیوں کے استعمال پر روک لگنی چاہیے۔''

انہوں نے مزید کہا '' تحریر اسکوائر سے آنے والی تصویروں میں، بشمول بعض مظاہرین کو بے رحمی سے پیٹنے جیسی تصویریں انتہائی تکلیف دہ ہیں۔ اس کے لیے ایک طریقہ کار ہونا چاہیے، غیر جانبدارانہ تفتیش ہو اور جو لوگ اس کے مرتکب پائے جائیں انہیں جوابدہ بنانے کی ضرورت ہے۔''

مصر میں فوجی حکومت کے خلاف گزشتہ چار دن سے پرتشدد مظاہرے جاری ہیں جن پر قابو پانے کے لیے سکیورٹی فورسز نے سخت کاررائیاں کی ہیں۔ اب تک تیس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جبکہ ڈیڑھ ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

عوامی مظاہروں کے بعد فوج اور سپریم کونسل کے سربراہ فیلڈ مارشل محمد حسین طنطاوی نے قومی ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدارتی انتخابات کا انعقاد جولائی سنہ دو ہزار بارہ میں کیا جائیگا۔

تاہم مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعلان کافی نہیں ہے اور فیلڈ مارشل طنطاوی کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔ عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین نعرے لگا رہے تھے کہ ’ہم نہیں جائیں گے، تم (طنطاوی) جاؤ‘

اس سے پہلے فوجی حکمرانوں نے جو اصل ٹائم ٹیبل اعلان کیا تھا اس کے مطابق صدارتی انتخابات کا انعقاد سنہ دو ہزار تیرہ سے پہلے ممکن نہیں تھا۔

اپنے خطاب میں محمد حسین طنطاوی نے کہا تھا کہ آئندہ ہفتے ہونے والے پارلیمانی انتخابات اپنے وقت پر ہوں گے اور اگر ضرورت پڑی تو فوری طور پر اقتدار کی منتقلی کے لیے ریفرنڈم بھی کرائے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فوج عوام کے تحفظ کے لیے ہے اور یہ اقتدار پر مستقل قبضہ نہیں کرنا چاہتی۔ ’فوج کی نمائندگی سپریم کونسل کرتی ہے اور یہ نہ ہی حکومت کرنا چاہتی ہے اور نہ ہی ملک کے مفادات کو داؤ پر لگانا چاہتی ہے‘۔

تنتاوی نے کہا ’یہ (فوج) اقتدار کی منتقلی کے لیے پوری طرح تیار ہے تاکہ یہ اپنے اصل فرائض کو سنبھال سکے یعنی ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنا اور اگر ضرورت پڑی تو اس بارے میں عوامی ریفرنڈم بھی کرائے جا سکتے ہیں‘۔

ان کا یہ بیان سیاسی بحران کے نتیجے میں فوج اور سیاسی رہنماؤں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد سامنے آیا۔ یاد رہے کہ ایک دن پہلے ہی وزیراعظم اعصام شرف کی کابینہ نے اپنے استعفے فوج کی سپریم کونسل کو سونپ دیے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فوج عوام کے تحفظ کے لیے ہے اور یہ اقتدار پر مستقل قبضہ نہیں کرنا چاہتی: فیلڈ مارشل تنتاوی

ادھر قاہرہ میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ منگل کی رات گئے تک جاری تھا۔ مصر کی وزارتِ صحت کے مطابق سنیچر سے اب تک ان مظاہروں کے دوران تیس افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔

پولیس نے پتھراؤ کرنے والے مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے آنسوگیس اور ربر کی گولیاں استعمال کی ہیں جبکہ مظاہرین کا دعوٰی ہے کہ پولیس اصل گولیاں استعمال کر رہی ہے۔

قاہرہ کے علاوہ اسکندریہ، سوئز، پورٹ سعید اور اسوان سے بھی جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔

امریکہ نے اپنے بیان میں ایک بار پھر مصر میں طاقت کے بے جا استعمال کی مذمت کی ہے۔ امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے مصری حکام سے کہا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ برداشت کا مظاہرہ کریں۔

اس سال فروری میں سابق صدر حسنی مبارک کی اقتدار سے علٰیحدگی کے بعد اگلے ہفتے ہونے والے پارلیمانی انتخابات ملک کی جمہوریت کی ریل گاڑی کو پٹڑی پر لانے کی ایک کوشش ہیں۔ لیکن کئی مصریوں کو خدشہ ہے کہ فوج اقتدار پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے چاہے انتخابات کے نتائج کچھ بھی ہوں۔

اسی بارے میں