شام میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیاں:یو این

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اقوام متحدہ کے مطابق شام میں مارچ سے اب تک 3500 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق شام میں سکیورٹی فورسز نے حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف کارروائیوں میں ایک منظم طریقۂ کار کے تحت حقوق انسانی’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی جنیوا میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق بچوں سمیت شہریوں کو قتل، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کا جنسی استحصال کیا گیا۔

اقوام متحدہ کے تین رکنی کمیشن کی 39 صحفات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کو شام کے مختلف علاقوں میں انسانیت کے خلاف جرائم پر شدید تشویش ہے۔

کمیشن کے پینل کے مطابق انھوں نے رپورٹ کو تیاری کرنے کے لیے دو سو تئیس متاثرین، عینی شاہدین اور منحرف فوجیوں کے انٹرویوز کیے۔

رپورٹ کے مطابق انٹرویو میں شام بغص لوگوں کا کہنا تھا کہ مظاہرین کو کچلنے کے لیے دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیا گیا۔

ایک باغی فوجی کے مطابق اس نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کرنے کی بجائے ہوائی فائرنگ کی، جس پر اسے گرفتار کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق شامی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں دو سو چھپن بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے کمیشن نے شامی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر تشدد کی کارروائیاں بند کر دیے اور ان میں ملوث افراد کو سزا دے۔

واضح رہے کہ کمیشن کے ارکان کو شامی حکومت نے ملک میں آنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ملک میں مارچ سے جاری عوامی احتجاج کے دوران تین ہزار پانچ سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

شامی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔

پابندیوں پر شامی ردعمل

تصویر کے کاپی رائٹ n

شامی حکومت نے عرب لیگ کی جانب سے عائد کردہ اقتصادی پابندیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے دمشق میں نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے عرب لیگ پر قطر میں طے پانے والے معاہدے سے پھرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ لیگ اس بات کو نظرانداز کر رہی ہے کہ شام کو دہشت گردوں کی جانب سے مسلح حملوں کا سامنا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان دہشت گرد گروہوں کو چند عرب ممالک بھی مالی امداد دے رہے ہیں چونکہ عرب ممالک کا شروع سے ہی مقصد شام میں بین الاقوامی مداخلت لانا تھا۔

وزیر خارجہ نے نیوز کانفرس میں ثبوت کے طور پر چند تصاویر اور ویڈیوز بھی پیش کیں جن میں انتہائی پرتشدد مناظر تھے۔

ولید المعلم نے دعوٰی کہ یہ مناظر دہشت گردوں کے اعمال بیان کرتے ہیں۔ ان تصاویر اور ویڈیوز کی مدد سے جنہوں نے اس بات کی اہمیت پر بھی زور دیا کہ عرب لیگ کو غلط فہمی ہے کہ فساد اور تشدد صرف حکومت کی جانب سے ہو رہا ہے۔

اقتصادی پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ شام پہلے ہی اپنے بیشتر اثاثے ملک میں لا چکا ہے اور تجارتی بندش سے دونوں جانب نقصان پہنچائے گی۔

اسی بارے میں

بی بی سی سے