ایرانی سفارتکاروں کو برطانیہ چھوڑنے کا حکم

Image caption ایران میں برطانوی سفارتخانہ پہلے ہی بند کر دیا گیا ہے اور عملے کو واپس بلوا لیا گیا ہے:ولیم ہیگ

برطانیہ نے لندن میں ایرانی سفارتخانہ فوری طور پر بند کرنے اور ایرانی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

اس بات کا اعلان برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے پارلیمان میں اپنے خطاب میں کیا۔

اس سے قبل برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا تھا کہ تہران میں برطانوی سفارتخانے کی عمارتوں پر مظاہرین کے دھاوے کے جواب میں برطانوی حکومت ایران کے خلاف سخت اقدامات پر غور کر رہی ہے۔

ولیم ہیگ کا کہنا تھا کہ ایرانی سفارتکار اڑتالیس گھنٹے میں ملک چھوڑ دیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایران میں برطانوی سفارتخانہ پہلے ہی بند کر دیا گیا ہے اور عملے کو واپس بلوا لیا گیا ہے۔

برطانیہ سے قبل ایک اور یورپی ملک ناروے نے بھی سکیورٹی وجوہات کی بناء پر تہران میں اپنا سفارتخانہ بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ منگل کو تہران میں ایک احتجاجی ریلی کے دوران مظاہرین نے برطانوی سفارتخانے میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی تھی اور برطانوی جھنڈے کو آگ لگا کر سفارتخانے پر ایران کا جھنڈا لہرا دیا تھا۔

یہ کارروائی ایران کے جوہری پروگرام پر مزید پابندیاں عائد کیے جانے کے فیصلے کے بعد ہوئی۔ یہ پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد ایرانی پارلیمان نے برطانیہ کے ساتھ سفارتی تعلقات کو محدود کرنے کے فیصلے کو منظور کر لیا تھا۔

برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس حملے کو ’ناقابل دفاع اقدام‘ قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت کی جانب سے برطانوی عملے اور اِملاک کی حفاظت میں ناکامی ’باعثِ شرم‘ ہے۔

برطانوی وزیراعظم نے کہا ’ایرانی حکومت کو لازمی طور پر یہ بات سمجھنا ہوگی کہ ہمارے عملے کی حفاظت میں ناکامی کے سنگین نتائج برآمد ہونگے، اور ہم اس بات پر غور کریں گے کہ یہ اقدامات آئندہ دنوں میں ہو جائیں۔‘

واقعے پر بین الاقوامی ردعمل

Image caption مظاہرین نے برطانوی سفارتخانے میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی تھی

تہران میں برطانوی سفارتخانے پر مظاہرین کے حملے پر بین الاقوامی برادری نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی پندرہ رکنی سلامتی کونسل نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی جبکہ امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اس حملے نے انھیں شدید مضطرب کر دیا ہے۔

براک اوباما نے کہا تھا کہ ’اس قسم کا رویہ ناقابل برداشت ہے اور میں سختی سے ایران پر زور دیتا ہوں کہ وہ اس واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کرے۔‘

فرانسیسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’ایرانی حکومت نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دکھایا کہ اس کی نظر میں بین الاقوامی قوانین کی کتنی کم اہمیت ہے۔‘

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا نے ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے خلاف نئے اقدامات کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں