سونیا گاندھی، سرجری کے بعد پہلی عوامی تقریر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بھارت کی حکمران جماعت کانگرس کی رہنماء سونیا گاندھی اگست میں اپنے آپریشن کے بعد پہلی منظرِ عام پر آئیں ہیں۔

سونیا گاندھی کی اگست میں امریکہ میں سرجری ہوئی تھی تاہم کانگریس نے ان کی بیماری کی نوعیت کے بارے میں معلومات فراہم کرنے سے متعدد بار انکار کیا ہے لیکن اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کینسر کے علاج کے لیے امریکہ گئیں تھیں۔

منگل کو انہوں نے دلی میں کانگرس کی ایک یوتھ ریلی سے خطاب کیا جس کا اہتمام اُن کے بیٹے راہول گاندھی نے کیا تھا۔

اس موقع پر وزیرِاعظم منموھن سنگھ بھی موجود تھے جبکہ ریلی میں شریک ہزاروں لوگوں نے سونیا گاندھی کا پرجوش استقبال کیا۔

چونسٹھ سالہ سونیا گاندھی کو بھارت میں سب سے طاقتور سیاستدان سمجھا جاتا ہے۔

اگرچہ اُن کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے مگر پھر بھی انہیں حکومت کا بے عہدہ سربراہ سمجھا جاتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جلسے میں سونیا گاندھی تھکاوٹ کا شکار نظر آ رہیں تھیں مگر پھر بھی اُنہوں نے دس منٹ سے زیادہ خطاب کیا۔

انہوں نے کہا ’ آپ میں ظلم اور ناانصافی کی طاقتوں سے لڑنے کی بھرپور ہمت ہے تاکہ آپ اپنے اور دوسروں کے لیے ایک خوبصورت مستقبل بنا سکیں۔‘

وزیرِاعظم من موہن سنگھ نے بھی پارٹی اراکین سے خطاب کیا جو کہ اگلے سال ہونے والے ریاستی انتخابات سے پہلے دلی میں جمع تھے۔

نامہ نگاروں کے مطابق سونیا گاندھی کی غیر موجودگی میں بھارتی حکومت کو بہت زیادہ مشکلات درپیش رہیں جن میں بدعنوانی کے سکینڈلز بھی ہیں۔

اُن کے مطابق اگر سونیا گاندھی حکومت کر رہنمائی کے لیے موجود ہوتیں تو شاید حکومت ان مشکلات کا بہتر طریقے سے سامنا کر سکتی تھی۔

سونیا گاندھی سابق وزیرِاعظم راجیو گاہندی کی بیوہ ہیں۔

انہوں نے سنہ دو ہزار چار میں من موہن سنگھ کو وزیراعظم کے عہدے کے لیے نامزد کیا تھا مگر انہیں عموماً وزیرِعظم سے زیادہ ظاقتور سمجھا جاتا ہے۔

وہ نہرو-گاندھی خاندان کی سربراہ ہیں جس نے آزادی سے اب تک بیشتر وقت بھارت پر حکمرانی کی ہے۔

بہت سے تجزیہ کار اور پارٹی اراکین سونیا گاندھی کے بیٹے راہول گاندھی کو مستقبل کے وزیرِاعظم کے طور پر تصور کرتے ہیں۔