برطانیہ میں کئی دہائیوں کی سب سے بڑی ہڑتال

Image caption کئی دہائیوں میں برطانیہ میں ہونے والی یہ سب سے بڑی ہڑتال ہے

برطانیہ میں پینشن کے معاملے کی گئی ہڑتال میں لاکھوں افراد نے ریلیاں نکالیں جبکہ سکول ہسپتال اور دیگر سہولیات معطل رہیں۔

بدھ کے روز دو تہائی سکول بند رہے اور ہسپتالوں میں ہزاروں آپریشن ملتوی کرنا پڑے۔ یونینز کے مطابق احتجاج میں بیس لاکھ افراد نے حصہ لیا۔

ڈاؤننگ سٹریٹ یعنی وزیراعظم ہاؤس نے مذاکرات کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ ’اس (ہڑتال) سے کچھ حاصل نہیں ہوگا‘۔

یونینوں نے اُس حکومتی منصوبے پر اعتراض کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پینشن کے اہل ہونے کے لیے زیادہ گھنٹوں تک کام اور ٹیکس بھی زیادہ دیا جائے۔

برطانیہ میں وزارتِ تعلیم کے مطابق احتجاج کے باعث ملک کے باسٹھ فیصد سکول بند رہے جبکہ محکمہء صحت کے مطابق تیس ہزار میں سے سات ہزار کے قریب آپریشن ملتوی کرنا پڑے۔ شمالی آئرلینڈ میں کوئی بس یا ٹرین سروس نہیں چلی۔

لندن کے مغربی علاقوں سے سرمایہ دارانہ نظام کے مخالف بیس کے قریب افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ سکاٹ لینڈ یارڈ کے مطابق اس نے شام کے وقت پچہتر افراد کو مختلف نوعیت کے حملوں کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

برطانوی وزیر فرانسس ماؤدے نے سرکاری ملازمین کے اس اقدام کو غلط قرار دیا ہے۔

ان کے بقول ’میں سرکاری ملازمین سے درخواست کرتا ہوں کہ انہیں جو پیشکش کی جارہی ہیں وہ اُس طرف توجہ دیں نہ کہ اپنے یونین کے رہنماؤں کی خرافات پر کان دھریں۔‘

انہوں نے کہا کہ جس قسم کی پینشن کی پیشکش کی جارہی ہے وہ نجی اداروں میں چند ہی ملازمین کو حاصل ہے۔

اس سے پہلے یونین کے رہنماؤوں نے حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دو سال کے لیے ایک فیصد سالانہ اضافے اور سنہ دو ہزار چھبیس تک ریٹائرمنٹ کے لیے عمر کی حد سڑسٹھ برس کیے جانے کے اعلان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔

جی ایم بی یونین کے رہنماء پال کینی کا کہنا ہے ’سرکاری ملازمین پہلے ہی مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں اور ان کی تنخواہوں پر مزید پابندیاں عائد کرنے سے پینشن کے معاملات پر ممکنہ حل تلاش کرنے کی بات مزید مشکل ہوگئی ہے۔

چوبیس گھنٹے کی اس ہڑتال میں توقع کی جارہی ہے کہ عدالت، ڈرائیونگ لائسنس کے دفاتر، لائبریریوں، کمیونٹی مراکز، ہائی وے ایجنسی اور پولیس کمیونٹی سپورٹ کے دفاتر میں معمول کے کام میں بھی غیر حاضری کے باعث خلل پڑے گا۔

خدشہ ہے کہ انگلینڈ کے نوے فیصد سکول بھی ہڑتال کے روز بند رہیں گے۔

یوکے بارڈر ایجنسی کا معمول کا آپریشن بھی اس ہڑتال سے متاثر ہوسکتا ہے اور اسی تناظر میں ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ جو لوگ یوکے میں داخل ہونا چاہتے ہیں انہیں ہوسکتا ہے کہ لمبی قطاروں میں انتظار کا سامنا کرنا پڑے۔

ہڑتال کے مووقع پر عوام سے کہا گیا کہ ہنگامی نمبر 999 پر کالوں کے جواب دیے جائیں گے تاہم مریض یا ان کے اہلِ خانہ صرف اسی صورت میں کال کریں جب وہ سمجھیں کہ بہت ہی ایمرجنسی صورتحال ہے۔

برطانوی چیمبر آف کامرس کے ڈائریکٹر جنرل جان لانگورتھ نے اس ہڑتال کو ایک غیردمہ دارانہ اور غیر محتاط عمل قرار دیا۔

ان کے بقول ٹریڈ یونین کے ارکان یہ حقیقت نظرانداز کررہے ہیں کہ برطانیہ کو مقابلے کی دنیا میں اپنا مقام بنانا ہے۔

اسی بارے میں