ایمنٹسی کی معلومات درست نہیں: سعودی عرب

Image caption نمایاں شخصیات کو انتہائی غیرمنصفانہ سماعت کے دوران لمبی مدت کی سزائیں سنائی گئی ہیں: ایمنسٹی

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی وہ رپورٹ جس میں سعودی عرب پر ملک میں اٹھنے والی احتجاجی لہر کو دبانے کا الزام عائد کیا گیا ہے، غلط معلومات پر مبنی ہے۔

ایمنسٹی نےجمعرات کو جاری کی گئی اپنی رپورٹ میں سعودی عرب پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے عرب ممالک میں آنے والی احتجاجی لہر کو اپنے ملک میں سختی سے دبانے کی کوشش کی ہے۔ رپورٹ میں عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ ہزاروں افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن میں سے کئی ایسے ہیں جن کے خلاف نہ کوئی الزام ہے اور نہ ہی انہیں عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

لندن میں سعودی سفارتخانے کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انسدادِ دہشتگردی کے جس قانون کا ذکر ایمنسٹی نے کیا ہے اور بقول اس کے جسے حکومت مخالف آواز دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، وہ ابھی تک صرف ایک مسودہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے ’نمایاں شخصیات کو انتہائی غیرمنصفانہ سماعت کے دوران لمبی مدت کی سزائیں سنائی گئی ہیں‘ اور بےچینی کا عنصر اب تک ملک کے مشرقی حصے میں آباد شیعہ برادری تک محدود ہے۔

تہتّر صفحات پر مشتمل رپورٹ میں عالمی تنظیم نے سعودی حکام پر سینکڑوں ایسے افراد کو گرفتار کرنے کا الزام عائد کیا ہے جو سیاسی اور معاشی اصلاحات یا اپنے پیاروں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے جنہیں بغیر کسی الزام کے قید میں رکھا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عرب ممالک میں فروری سے شروع ہونے والی احتجاجی لہر کے تناظر میں سعودی حکومت نے مشتبہ افراد کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا اور زیادہ تر مشرقی صوبے میں شیعہ مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا۔

مارچ کے مہینے سے اب تک قطیف، اہسہ اور عوامیہ میں ہونے والے پرامن مظاہروں کے تین سو کے قریب شرکاء کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ بیشتر افراد کو اس یقین دہانی پر رہا کردیا گیا کہ وہ آئندہ مظاہروں میں شرکت نہیں کریں گے جبکہ کئی دیگر افراد پر سفر کرنے پر پابندی عائد کردی گئی۔

گزشتہ ہفتے نمایاں شخصیات سمیت سولہ افراد کو پانچ سے تیس سال تک قید کی سزائیں دی گئیں۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ سماعت کے لیے ان افراد کو آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر ہتھکڑیوں میں لایا گیا تھا جبکہ ان کے وکلاء کو پہلی تین سماعتوں کو دوران عدالت میں آنے کی اجازت نہیں تھی۔

سعودی ردعمل

سعودی حکام نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انسدادِ دہشتگردی قانون پر کئی برس سے بحث جاری ہے اور یہ تاحال صرف ایک مسودہ ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس مسوددۂ قانون میں پہلے ہی کئی تبدیلیاں ہو چکی ہیں اور یہ اس وقت منظور نہیں کیا جائے گا جب تک یہ بات یقینی نہیں بنائی جاتی کہ یہ شریعت کے مطابق ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مملکت کے مشرقی صوبے میں صرف انہی افراد کو حراست میں لیا گیا تھا جو فسادات میں ملوث تھے اور ان میں سے بھی بیشتر افراد کو پوچھ گچھ کے بعد بغیر کوئی الزام لگائے رہا کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں