برطانوی ایشیائیوں کے اغواء میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایجنسی کے اعدادوشمار صرف ان کیسوں کا احاطہ کرتے ہیں جو حکام کے علم میں ہوتے ہیں

برطانیہ میں سنگین جرائم سے نمٹنے والے ادارے سیریس آرگنائزڈ کرائم ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر سال برطانوی ایشیائی باشندوں کو اغواء کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ایجنسی کے مطابق اغواء کاروں نے گزشتہ برس بائیس افراد کو اغواء کیا اور سنہ دو ہزار چھ سے اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔

یورپی پارلیمان کے ممبر سجاد کریم کے مطابق جرائم پیشہ افراد زیادہ تر پاکستان کا دورہ کرنے والے برطانوی ایشیائی باشندوں کو اغواء کرتے ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایسے افراد اغواء کاروں کا آسان ٹارگٹ ہوتے ہیں۔

سیریس آرگنائزڈ کرائم ایجنسی کے اعدادوشمار صرف ان کیسوں کا احاطہ کرتے ہیں جو حکام کے علم میں ہوتے ہیں۔

دوسری جانب برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایجنسی کی جانب سے پیش کیے جانے والے اعدادوشمار زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا ایجنسی کے اعدادوشمار ہمارے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

دوسری جانب متعدد خاندانوں اور کمیونٹی رہنماؤں نے بی بی سی کو بتایا کہ متاثرہ افراد ایسے معاملات کو حکام کے نوٹس میں لانے سے گھبراتے ہیں۔

ان کے مطابق متاثرہ افراد ان واقعات سے خود نمٹنے کا فیصلہ کرتے ہیں اور اغواء کاروں کو تاوان ادا کر کے برطانیہ واپس چلے جاتے ہیں۔

یورپی پارلیمان کے ممبر سجاد کریم نے ایسے متعدد برطانوی افراد کی مدد کی ہے جن کے رشتے دار پاکستان کے دورے کے دوران یا تو اغواء ہوئے یا مارے گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کے عدالتی نظام کا تقاضہ ہے کہ متاثرہ افراد ملک کے اندر موجود ہوں تاکہ مقدمے کی کارروائی جاری رکھی جاسکے۔

واضح رہے کہ سنہ دو ہزار سات میں بریڈ فورڑ سے تعلق رکھنے والے اٹھائیس سالہ تاجر سلمان صابر کو کراچی میں قتل کر دیا گیا تھا۔

اس واقعہ کے تقربیاً ساڑھے چار سال بعد بھی ان کے بھائی عبید مغل انصاف کے لیے لڑ رہے ہیں۔

سلمان صابر کے خاندان نے اس کیس کی پیروی کے لیے متعدد بار برطانیہ سے پاکستان کا دورہ کیا اور ہزاروں پاؤنڈ خرچ کیے۔

سلمان صابر کے بھائی عبید مغل کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں اسیے بہت سے کیسز ہیں اور انصاف ملنا بہت مشکل ہے۔‘

اسی بارے میں