’عورتوں کی ڈرائیونگ نسوانیت کے لیے خطرہ‘

فائل فوٹو
Image caption نجلہ نامی خاتون کو بھی گاڑی چلانے پرگرفتار کر لیا گیا تھا۔

سعودی عرب میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے اگر عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت دے دی گئی تو یہ ملک میں نسوانیت کے خاتمے کا سبب بن جائے گی۔

یہ رپورٹ سعودی عرب کے ایک نامور قدامت پسند عالم نے سعودی عرب کی قانون ساز اسمبلی شورٰی کونسل کے لیے تیار کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت دی گئی تو اس سے ملک میں جسم فروشی، فحش حرکات، ہم جنس پرستی اور طلاق کے واقعات میں اضافہ ہو جائے گا۔

سعودی عرب میں عورتوں کی ڈرائیونگ پر پابندی کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والی ایک خاتون کا کہنا ہے کہ ’یہ رپورٹ مکمل طور پر پاگل پن ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کے ملک کی شورٰی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ’وہ خواتین ڈرائیورز کا موقف بھی سنیں گے۔‘

سعودی عرب میں خواتین کے گاڑی چلانے پر باقاعدہ پابندی تو نہیں ہے لیکن ایسا کرنے پر انہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ سعودی خواتین نے اس پابندی کے خاتمے کے لیے کئی بار مہم چلائی۔

ان خواتین کا کہنا ہے کہ اس پابندی کا مقصد بظاہر انہیں خاندان کے زیرِ نگرانی اور غیر مردوں سے دور رکھنا ہے جو اس وقت بے معنی ہو جاتا ہے جب انہیں روزانہ ایک مرد ڈرائیور سے رابطے میں رہنا پڑتا ہے۔

اس مسئلے نے بڑے پیمانے پر بین الاقوامی توجہ حاصل کی ہے۔

سعودی عرب میں کئی اصالاحات سے ساتھ ساتھ شاہ عبداللہ نے خواتین کے گاڑی چلانے پر پابندی کے حوالےسے تجاویز طلب کی تھیں لیکن اس کی وجہ سے سعودی عرب کے قدامت پرست رہنما ناراض ہو گئے تھے۔ یہ لوگ سعودی حکمرانوں کی طاقت کی بنیاد ہیں۔

انہی میں سے ایک مقبول عالم کمال صبحی نے یہ رپورٹ شورٰی کو پیش کی ہے۔ اس رپورٹ کا مقصد پابندی پر نطر ثانی کے منصوبے کو ترک کروانا ہے۔

اسی بارے میں