آسٹریلیا: بھارت کو یورینیم کی فروخت پر آمادگی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارت کو یورینیم فروخت کرنے پر اتفاق سخت حفاظتی قوانین کی بنیاد پر ہوگا: جولیا گیلارڈ

آسٹریلیا کی حکمراں لیبر پارٹی نے بھارت کو یورینیم کی برآمد پر عائد پابندی اٹھانے کی حمایت کردی ہے۔

آسٹریلیا کے پاس دنیا کے چالیس فیصد یورینیم کے ذخائر ہیں۔ آسٹریلیا اپنا یورینیم چین جاپان، تائیوان اور امریکہ کو برآمد کرتا ہے۔

آسٹریلیا نے بھارت کو یورینیم کی برآمد پر پابندی لگا دی تھی کیونکہ بھارت نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔

لیبر پارٹی کی سالانہ کانفرنس کے دوران ہوئی ایک سیر حاصل بحث میں وزیر اعظم جولیا گیلارڈ نے کہا ہے کہ یہ تبدیلی ملک کے مفاد میں ہوگی۔

گیلارڈ کا کہنا تھا ’اس کانفرنس میں ہمیں قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا ہے۔ ایسا فیصلہ جس میں ہمیں بھارت کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری کرنی ہے۔‘

لیبر پارٹی کے اجلاس میں بھارت کو یورینیم کی فروخت کی قرارداد کی حمایت میں دو سو چھ جبکہ مخالفت میں ایک سو پچاسی ووٹ ڈالے گئے۔

آسٹریلوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت کو یورینیم فروخت کرنے پر اتفاق سخت حفاظتی قوانین کی بنیاد پر ہوگا تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ اس یورینیم کا جوہری استعمال نہیں ہوگا بلکہ اسے شہری ضرورت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

آسٹریلیا میں یورینیم کی صنعت نے حکمراں جماعت کی جانب سے اس پالیسی میں تبدیلی کو سراہا ہے۔

اجلاس میں کی جانے والی بحث میں حکمراں جماعت میں اس وقت تقسیم نظر آئی جب وزیرِ ٹرانسپورٹ ایتھونی البانيذ نے اس تجویز کی مخالفت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ جاپان کا فوکوشیما جوہری پلانٹ مارچ میں زلزلے اور سونامی سے شدید متاثر ہوا تھا اور ان حالات میں یہ عجیب سی بات ہے کہ آسٹریلیا اپنی یورینیم کی برآمد کو وسعت دے۔

اسی بارے میں