بون کانفرنس آج، پاکستان کا بائیکاٹ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سنیچر کو بون میں پانچ ہزار مظاہرین نے افغانستان میں جنگ کے خلاف مظاہرہ کیا

افغانستان کے مستقبل کے بارے میں بین الاقوامی کانفرنس کا آج (پیر کو) جرمنی کے شہر بون میں آغاز ہوگیا ہے۔

ایسی ہی ایک کانفرنس دس سال قبل افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمہ کے چند ہفتوں بعد اسی شہر میں منعقد ہوئی تھی۔

تاہم پاکستان نے اپنے شمالی علاقے میں نیٹو کے ایک حملے میں چوبیس فوجیوں کی ہلاکت کے بعد احتجاج کے طور پر اس کانفرنس میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کو فون کرکے امریکہ کا یہ موقف دہرایا ہے کہ گزشتہ ماہ ہونے والا نیٹو کا فضائی حملہ ارادی طور پر نہیں کیا گیا۔

مہمند ایجنسی میں افغان سرحد پر سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو کے فضائی حملے میں چوبیس پاکستانی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر اوباما نے پاکستانی صدر کو ٹیلی فون کر کے ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ حادثے کی جامع تحقیقات کی جائیں گی۔

پاکستان نے اس حملے کو اپنی سلامتی اور آزادی پر حملہ قرار دیتے ہوئے بون کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے جرمنی کے شہر بون میں افغانستان کے مستقبل کے بارے میں ہونے والی ایک روزہ کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے پاکستان کے فیصلے کو افسوس ناک تو قرار دیا ہے لیکن ان کے بقول پاکستان کا یہ فیصلہ خودمختاری پر مبنی ہے۔ بان کی مون نے کہا ’پاکستان خطے کا ایک اہم ترین ملک ہے جو افغانستان میں قیام امن اور استحکام کے لیے مدد کر سکتا ہے اور کیا ہی بہتر ہوتا کہ اگر پیر کو (آج) ہونے والی اس کانفرنس میں پاکستان شرکت کرتا۔ پاکستان کا شرکت نہ کرنا ایک افسوس ناک امر ہے لیکن یہ اس کا اپنا فیصلہ ہے اور خودمختاری پر مبنی ہے۔‘

پاکستان کی یقین دہانی

جرمنی کے وزیر خارجہ گیڈو ویسٹاویلا نے کہا ہے کہ انھیں پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بون کانفرنس میں پاکستان کے شرکت نہ کرنے کا ہر گز مطلب یہ نہیں کہ پاکستان افغانستان میں سیاسی عمل کی حمایت نہیں کرتا۔

گیڈو ویسٹا ویلا نے کہا کہ وہ پاکستان کی حکومت کے اس بیان پر یقین کرتے ہیں اور انہیں پاکستان کی حمایت پر بھروسہ ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی، جرمن چانسلر اینجلا مرکل اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون اس ایک روزہ کانفرنس کا مشترکہ طور پر افتتاح کریں گے جس میں ایک سو کے قریب ملکوں اور بین الاقوامی اداروں کے ایک ہزار کے قریب مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔

افغانستان کے مغربی ہمسایہ ملک ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صلاحی اور امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن سمیت ساٹھ کے قریب دیگر ممالک کے وزراء خارجہ بھی شامل ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نےکانفرنس کے بارے میں اپنے مراسلے میں لکھا ہے کہ گزشتہ ہفتے نیٹو کے فضائی حملے میں چوبیس فوجیوں کی ہلاکت کی وجہ سے افغانستان کے مستقبل کی بابت ایک اہم ترین جوہری طاقت رکھنے والے مشرقی ہمسایہ ملک پاکستان نے کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایرانی وزیر خارجہ علی اکبر صلاحی بون کانفرنس میں شرکت کے لیے پہنچ گئے ہیں

اے پی کے مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کو افغان اور غیر ملکی فوجوں سے برسرِ پیکار افغانستان کے مزاحمتی گروہوں پر اثرو رسوخ اور تعلقات کے سلسلے میں ایک کلیدی حیثیت حاصل ہے۔

بون کانفرنس سے توقعات

بون کانفرنس میں جن معاملات پر غور کیے جانے کی توقع ہے ان میں آئندہ تین برس میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں بین الاقوامی فوجوں سے افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کیے جانا، ایک طویل عرصے تک افغانستان کے لیے بیرونی امداد جاری رہنے اور طالبان سے سیاسی مفاہمت کے امکانات پر غور شامل ہیں۔

گیڈو واسٹاویلا نے کہا کہ ’ہمارا مقصد ایک پرامن افغانستان ہے جو کہ آئندہ کبھی بین الاقوامی دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہ بن پائے۔‘

توقع کی جا رہی ہے کہ بون کانفرنس کے اعلامیے میں اُن اصولوں اور حدود کا تعین بھی کیا جائے گا جن کی بنیادوں پر طالبان سے مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانا ہے اور ایک ایسا منصوبہ تیار کرنا جو بہت سے شرکاء کے مطابق، دو ہزار چودہ میں نیٹو کی افواج کے انخلاء کے بعد بھی مشعل راہ ثابت ہو۔

سنیچر کو بون کی سڑکوں پر پانچ ہزار کے قریب لوگوں نے افغانستان میں جنگ ختم کرنے کے حق میں مظاہرہ کیا۔ اے پی کے مطابق اس وقت انچاس ملکوں پر مشتمل نیٹو اتحاد کے ایک لاکھ تیس ہزار فوجی افغانستان کی سر زمین پر موجود ہیں جن میں بہتر ہزار امریکی فوجی شامل ہیں۔ لیکن افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں یا دفاعی ماہرین کی کل تعداد ایک لاکھ سولہ ہزار بتائی جاتی ہے۔

ان غیر ملکی فوجیوں کی ایک بڑی تعداد اگلے تین برس میں افغانستان سے واپسی بلا لی جائے گی اور صرف وہ غیر ملکی فوجی افغانستان میں موجود رہیں گے جو افغان سیکیورٹی فورسز کی تربیت یا انسداد دہشت گردی کے لیے ضروری سمجھے جائیں گے۔

صدر براک اوباما ننے اس سال کے وسط میں اعلان کیا تھا کہ دس ہزار امریکی فوجی اس سال کے آخر تک امریکہ واپس بلالیے جائیں گے۔

افغانستان کو اس سال پندرہ اعشاریہ سات ارب ڈالر کی امداد دی گئی۔ کانفرس سے قبل شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے بیرونی امداد مہیا کرنے والوں کو سنہ دو ہزار پندرہ میں دس ارب ڈالر دینے ہوں گے۔

سنہ دو ہزار چودہ تک افغان سیکورٹی فورسز کی کل تعداد تین لاکھ باون ہزار تک پہنچ جانے کی توقع ہے لیکن افغان حکومت اپنے وسائل سے ان کے لیے مالی اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔ سنہ دو ہزار اکیس تک اخراجات میں اضافے کی وجہ سے ہر سال سات اعشارہ آٹھ ارب ڈالر کی کمی درپیش ہو گی۔

اسی بارے میں