’پاکستان کی شرکت ضروری ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption افغانستان کے صدر حامد کرزائی بون کانفرنس میں شرکت کے لیے جرمنی پہنچ گئے ہیں

افغان امن کونسل کے اہم رکن حبیب اللہ فوزی نے امریکہ کی طرف سے دیے جانے والے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ پاکستان کی عدم شرکت سے بون کانفرنس کے نتائج پر اثر نہیں پڑے گا۔

انہوں نے کہا ’ہم اور عالمی برادری اس کانفرنس سے جو نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ پاکستان کی شرکت کے بغیر اب ُاس پیمانے پر حاصل نہیں ہو سکتے۔‘

اس سے قبل گزشتہ روز ایک انٹرویو میں افغانستان میں تعینات امریکی سفیر رائن سی کروکر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ بون کانفرنس میں پاکستان کی عدم شرکت اُس کے اپنے لیے نقصان دہ ہوگی کیونکہ کانفرنس کے نتائج پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

یاد رہے کہ پاکستان نے جرمنی کے شہر بون میں پیر کو منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت کرنےسے انکار کر دیا ہے۔ چھبیس نومبر کوپاکستان کے قبائلی علاقے میں واقع سلالہ چیک پوسٹ پر سرحد پار سے ہونے والے نیٹو کے حملے میں پاکستان کے چوبیس فوجیوں کی ہلاکت کے بعد حکومت پاکستان نےیہ فیصلہ کیا ہے۔

طالبان کے دورِ حکومت میں سعودی عرب میں طالبان کے سابق قائم مقام سفیر حبیب اللہ فوزی نے بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ’ہم امریکہ سے اس بات پر متفق نہیں ہیں کہ پاکستان کی شرکت غیر ضروری ہے کیونکہ ہر معاملہ طاقت کے زور پر حل نہیں کیا جا سکتا اور امریکہ کو چاہیے تھا کہ وہ کانفرنس میں پاکستان کی شمولیت کو ممکن بناتا۔‘

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو سنیچر کو فون کر کے بون کانفرنس میں شرکت کا کہا ہے۔ سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے وزیر اعظم کو بتایا کہ مہمند ایجنسی میں پاکستانی چیک پوسٹ پر حملہ غیر ارادی تھا۔

ہلری کلنٹن نے مزید کہا کہ اس حملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور اس حملے کی وجہ سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات خراب نہیں ہو نے چاہیے۔ پی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے امریکی وزیر خارجہ کو بتایا کہ بون کانفرنس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کابینہ کی دفاعی امور کی کمیٹی اور پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی میں کیا گیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوے حبیب اللہ فوزی نے کہا ’اگر امریکہ کا اس پر عقیدہ ہے کہ پاکستان کی شرکت بون کانفرنس میں اہم نہیں ہے تو پھر اس نے پاکستان سے شرکت کے لیے درخواست کیوں کی ہے؟‘ ان کے مطابق درخواست کرنے کا مطلب یہی ہے کہ پاکستان اس سارے عمل میں اہم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’خطے میں امن کے لیے سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ پاکستان اور افغانستان کی دوستی اہم ہے اور پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کے بغیر امن کے لیے راہ ہموار کرنا ممکن نہیں ہے۔‘

پیر کو منعقدہ بون کانفرنس میں تقریباً نوے کے قریب ممالک کے وزراء خارجہ اور داخلہ شرکت کر رہے ہیں۔ کانفرنس میں افعانستان کی نمائندگی وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ کے علاوہ افغان امن کونسل کے جنرل سیکریٹری معصوم ستناکزی بھی کر رہے ہیں۔ کانفرنس میں افعانستان میں تعینات بین الاقومی افواج کے آئندہ کے لائحہ عمل سمیت خطے کی امن و امان کی صورت حال اور اقتصادی امور میں تعاون پر بھی بات چیت متوقع ہے۔