’افغانستان کو عالمی برادری کی مدد درکار ہوگی‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کانفرنس میں جاری ہونے والے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری افغانستان کی مدد کرتی رہے گی

جرمنی کے شہر بون میں افغانستان کے مستقبل پر ہونے والی کانفرنس کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ سنہ 2014 میں بین الاقوامی فوج کے انخلا کے بعد بھی کم سے کم ایک دہائی تک افغانستان کو عالمی برادری کی مدد درکار ہوگی۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ عرصہ ’تبدیلی کی دہائی(یعنی ’ڈیکیڈ آف ٹرانسفورمیشن‘) ہوگی۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اس دہائی میں افغانستان اپنی خود مختاری کو مستحکم کر سکے گا۔

اعلامیے میں افغانستان سے مہاجروں کے حوالے سے پڑوسی ممالک ایران اور پاکستان پر پڑنے والے دباؤ کا بھی خاص ذکر کیا گیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے ’ہم افغانستان کے پڑوسیوں پر پڑنے والے بوجھ کو پہچانتے ہیں، خصوصاً پاکستان اور ایران پر، جنہوں نے لاکھوں افغانوں کو پناہ دیا ہے اورجو مشکل حالات ار کشیدہ تعلقات کے باجود ان کی حفاظت اور واپسی کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دس سال پہلے ہونے والے بون کانفرنس کے بعد سے اب تک کئی کامیابیاں ہوئی ہیں جن میں القاعدہ کی کارروائیاں کم کرنا، اور سکیورٹی اداروں کو مضبوط بنانا شامل ہے۔ تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ دہشت گردی اور منشیات کے کاروبار کے خلاف جنگ ابھی بھی جاری ہے۔

صدر کرزئی کا خطاب

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

اس سے پہلے کانفرنس میں افغان صدر حامد کرزئی نے افغانستان کے مستقبل کے بارے میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 2014 میں نیٹو افوج کے جانے کے بعد افغانستان کے مستقبل میں استحکام کے لیے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہو گی۔

پاکستان کا اس کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ بھی موضوع بحث بنا رہا۔ پاکستان نے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ اس واقعے پر احتجاج کے طور پر کیا ہے جس میں نیٹو طیاروں کی کارروائی میں پاکستانی فوج کے چوبیس اہلکار مارے گئے تھے۔

پیر کو افغانستان کے مستقبل کے بارے میں بین الاقوامی کانفرنس کا جرمنی کے شہر بون میں آغاز ہوا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے عالمی بینک کے ٹرسٹ کے تحت افغانستان کی مالی امداد بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

افغان صدر نے کانفرنس میں اپنے خطاب میں عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ افغانستان سے بین الاقوامی فوج کے انخلا کے بعد افغانستان کی مدد جاری رکھے۔

انہوں نے کہا کہ ’افغانستان کے عوام کی نظریں اس کانفرنس پر ہیں۔ افغانیوں کو توقع ہے کہ یہاں اس بات کا واضح اعادہ کیا جائے گا کہ سلامتی اور اقتصادی حوالے سے پیش رفت ہوگی جس کو دائمی بنایا جا سکے۔‘

افغان صدر کے مطابق ان کا ملک عالمی برادری پر مستقل بوجھ نہیں بننا چاہتا لیکن کم سے کم مزید دس سال کو ان کو مدد کی ضرورت ہوگی۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سفر میں امریکہ افغانستان کے ساتھ رہے گا۔

انھوں نے اعلان کیا کہ امریکہ عالمی بینک کے افغانستان سے متعلق ٹرسٹ کو دی جانے والی مالی امداد بحال کر رہا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ہلری کلنٹن کے اعلان کے تحت افغانستان کو چھ سو پچاس ملین ڈالر سے لے کر سات سو ملین ڈالر یا ستر کروڑ ڈالر کی روکی گئی مالی امداد کی ادائیگی ہو سکے گی۔

امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کے اجلاس میں شریک نہ ہونے کے فیصلے پر بون کانفرس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’افغانستان کے مستقبل سے پورے خطے کے مفادات وابستہ ہیں اور اگر افغانستان پھر دہشت گردی اور عدم استحکام کا منبع بن جاتا ہے تو ان ملکوں کو بہت نقصان ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس کانفرنس میں پاکستان کی شمولیت بہت سود مند ثابت ہو سکتی تھی۔‘

اس کانفرنس میں سو ممالک اور عالمی تنظیموں سے تقریباً ایک ہزار مندوب شرکت کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں