فرانس: مظاہرین جوہری بجلی گھر میں داخل

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جوہری بجلی گھر میں داخل ہونے والے نو میں سے سات کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

فرانسں میں غیرمحفوظ جوہری تنصیبات کی صورتِحال منظرِعام پر لانے کے لیے ماحولیاتی کارکن ایک جوہری بجلی گھر میں داخل ہو گئے ہیں۔

’گرین پیس‘ نامی گروہ کے کارکن اتوار اور پیر کی درمیانی شب فرانسیسی دارالحکومت پیرس سے ساٹھ میل دور نوجینٹ سر سین کے مقام پر ایک جوہری بجلی گھر میں داخل ہو گئے۔

گرین پیس کے ترجمان نے بتایا کہ مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے اور وہ جوہری ری ایکٹر تک پہنچ گئے۔

جوہری توانائی کی کمپنی کا کہنا ہے کہ کمپنی کو مظاہرین کے بجلی گھر میں داخل ہونے کا فوراً ہی پتا چل گیا تھا اور نو میں سے سات کارکنوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔

کمپنی کے ایک بیان کے مطابق ’مظاہرین کو فوراً ہی سکیورٹی کیمروں پر دیکھ لیا گیا تھا اور بغیر کسی تشدد یا طاقت کے استعمال کے ان کا لگاتار پیچھا کیا جا رہا تھا۔‘

واضح رہے کہ گرین پیس نے اس جوہری گھر کے علاوہ دو دیگر تنصیبات کو بھی اس دوران نشانہ بنایا۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ اگرچہ مظاہرین نے دو دیگر مقامات پر بھی بینر اٹھا رکھے تھے لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے یا نہیں۔

گرین پیس کی ایک کارکن صوفیہ مجنونی نے بتایا ’ہمارا مقصد یہ منظرِعام پر لانا ہے کہ فرانسیسی جوہری تنصیبات غیرمحفوظ ہیں اور ان کے اندر داخل ہونا کس قدر آسان ہے۔‘

صوفیہ مجنونی کا کہنا تھا کہ فرانس نے رواں سال مارچ میں زلزلے اور سونامی سے متاثرہ جاپانی جوہری گھر کو پہنچنے والے نقصان سے کچھ سبق حاصل نہیں کیا۔

دوسری جانب فرانسیسی وزیر برائے صنعت ایرک بیسوں نے اس واقعے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح جوہری گھر میں مظاہرین کا داخل ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ جوہری مقامات کو مزید محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں