’ڈاؤ کیمکلز کی سپانسر شپ پر تشویش‘

Image caption لندن اولمپکس کو ڈاؤ کیمکلز بھی سپانسر کر رہی ہے

بھارتی اولمپک ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ڈاؤ کیمکلز کی سپانسرشپ سے متعلق بھارت میں پائی جانے والی تشویش سے وہ انٹرنیشنل اولمپک ایسوسی ایشن کو آگاہ کریگا۔

بھارت میں بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ چونکہ ان کھیلوں کو سپانسر کرنے والی کمپنیوں میں ڈاؤ کیمکلز بھی شامل ہے جس کا تعلق بھوپال گیس سانحے سے ہے اس لیے بھارت کو ان اولمپکس میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔

اس سے پہلے بھارت کی وزارت کھیل نے انڈین اولمپک ایسوسی ایشن کو لکھا تھا کہ وہ اس معاملے پر انٹرنیشنل اولمپیک ایسوسی ایشن کے ساتھ بات چیت کرے۔

وزارت کھیل کا کہنا کہ اس معاملے سے بھارتی عوام کے جذبات جڑے ہیں اس لیے جو تشویش پائی جاتی ہیں اس سے متعلق اولمپک کے منتظمین کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔

وزارت کھیل کا موقف ہے کہ ’بھوپال گیس سانحے کے متاثرین سے متعلق ڈاؤ کی جو ذمہ داریاں بنتی ہیں اس سے متعلق کیس عدالت کے زیر سماعت ہے اور کمپنی کے خلاف کیس خود بھارتی حکومت نے دائر کیا ہے۔ اس مسئلے پر بڑی تعداد میں لوگوں کے احساسات ہیں اور ملک کے سرکردہ سابق اولمپک کھلاڑیوں نے بھی اس پر تشویش ظاہر کی ہے۔‘

انڈین اولمپک ایسوسی ایشن کے عبوری صدر وی کے ملہوترا کا کہنا ہے کہ انہیں وزارت کھیل کی طرف سے خط موصول ہوا ہے اور اس سلسلے میں پندرہ تاریخ کو ہونے والی میٹنگ میں اس پر بات چيت کی جائیگی۔

بھوپال گیس سانحے میں متاثرہ افراد کے اہل خانہ اور غیر سرکاری تنظیمیں اگلے برس لندن میں ہونے والے اولمپک کھیلوں کو بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی اولمپک ایسوسی ایشن اس پر بات چیت ضرور کریگي لیکن کھیلوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ نہیں کیا جائیگا۔ اطلاعات کے مطابق ان کھیلوں کی تیاریوں پر بہت پیسے خرج کیے جا چکے ہیں اور ادارے کا موقف ہے کہ اس وقت انہیں بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ دانشمندی نہیں ہے۔

اس سے پہلے ریاست مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان نے کھیلوں کے وفاقی وزیر اجے ماکن کو ایک خط لکھ کر کہا تھا کہ’میرے خیال میں اتنے بڑے سانحے کے لیے ذمہ دار کمپنی کو اولمپکس جیسے مقابلوں سے وابستگی کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ اور اگر ضرورت ہو تو کھیلوں کا بائیکاٹ کیا جانا چاہیے۔‘

بھوپال میں دسمبر انیس سو چوراسی میں یونین کاربائیڈ کی ایک فیکٹری سے زہریلی گیس رسنے سے پندرہ ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے جبکہ لاکھوں دیگر خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہوگئے تھے۔

ڈاؤ کیمکلز نے سن دو ہزار ایک میں یونین کاربائیڈ کو خرید لیا تھا لیکن اس کا کہنا ہے کہ دنیا کی تاریخ کے اس بدترین صنعتی حادثے کے لیے اسے ذمےدار نہیں ٹھہرایا جاسکتا کیونکہ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا تھا اس وقت یہ فیکٹری اس کی ملکیت میں نہیں تھی۔

گزشتہ ہفتے اولمپکس میں حصے لینے والے اکیس ایتھلیٹس نے بھی کھیلوں کے منتظمین سے اپیل کی تھی کہ ڈاؤ سے کوئی واسطہ نہ رکھا جائے۔ لندن اولمپکس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ ڈاؤ کیمکلز کے ساتھ اپنا معاہدہ ختم نہیں کریں گے۔

اسی بارے میں