’عرب لیگ کے امن منصوبے کا جواب مثبت ہے‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شام میں بدامنی ابھی تک جاری ہے اور سنیچر کو تئیس ہلاکتوں کی خبریں وصول ہوئیں تھیں

شامی حکومت کے مطابق اس نے عرب لیگ کے امن منصوبے کا مثبت جواب دیا ہے۔

دمشق کو امن معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے دی گئی مہلت کے ایک روز بعد شامی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ شام کی حکومت نے عرب لیگ کے امن منصوبے پر دستخط کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے جس کے تحت مبصرین کو شام میں داخل ہونے کی اجازت دے دی جائے گی۔

تاہم شام کی حکومت کی جانب سے دستخط کے لیے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ شام اور عرب لیگ کی مابین اس سلسلے میں ہونے والی تمام خط و کتابت کو معاہدے میں شامل کیا جائے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ شام یہ بھی چاہتا ہے کہ اس منصوبے پر دستخط عرب لیگ کے قاہرہ میں موجود مرکزی دفاتر کے بجائے دمشق میں کیے جائیں۔

شام اس منصوبے پر دستخط کے فوراً بعد عرب لیگ کی لگائی ہوئی تمام پابندیوں کا اختتام بھی چاہتا ہے۔

شام کی وزارتِِ خارجہ کے ترجمان جہاد مقدسی نے اتوار کے روز دمشق میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مبصرین کو شام میں لانے کے لیے مذاکرات جاری ہیں مگر فیصلے شام کے مفادات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔

شامی حکومت کا دعوٰی تھا کہ عرب لیگ کے مطالبات کے مطابق مبصرین کو حد سے زیادہ اختیارات دیے گئے ہیں جو کہ شام کی خودمختاری کے منافی ہے۔

شام کی فوجی مشقیں، ہلاکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

دوسری جانب شام کی فوج نے جنگی مشقوں کا اہتمام کیا ہے جس کو طاقت کا مظاہرہ کہا جا رہا ہے۔

شام کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ جنگی مشقوں میں میزائلوں کا استعمال اور زمینی اور فضائی افواج کی تیاری کا جائزہ لیا گیا۔

واضح رہے کہ شام کو عرب لیگ کی جانب سے نئی پابندیوں کا سامنا ہے۔ عرب لیگ نے مبصرین کو شام میں داخل ہونے کی اجازت دینے کے لیے شام کو دوبارہ مہلت دی تھی۔

دریں اثناء شام میں بدامنی ابھی تک جاری ہے اور ہفتے کے روز تئیس ہلاکتوں کی خبریں وصول ہوئیں ہیں۔

گزشتہ ہفتے قاہرہ میں ہونے والے اجلاس میں عرب لیگ نے شام کے خلاف پابندیوں کی منظوری دے دی تھی۔

ان میں شام کے مرکزی بینک سے لین دین پر پابندی، صدر بشارالاسد اور اُن کے اُنیس ساتھیوں کے اثاثوں کی ضبطی اور اُن کے عرب ممالک میں آمدورفت پر پابندی شامل ہیں۔

عراق کے سابق نیشیل سیکورٹی ایڈوائیزر موافق الربائی نے بی بی سی کو بتایا ’اقتصادی پابندیاں شام کی عوام کو تو نقصان پہنچائیں گی لیکن اِن سے حکومت کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔’ ہم نے عراق میں صدام حسین کے دورِ حکومت میں اُنیس سو ننانوے سے دو ہزار تین تک اقتصادی پابندیاں بھگتی ہیں۔‘ عراق نے پابندیوں کے حق میں ووٹ نہیں ڈالا تھا۔‘

اسی بارے میں