کابل: مزار پر دھماکے میں چون افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کابل اور مزار شریف میں ہونے والے بم دھماکوں میں 58 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور دونوں حملوں میں بظاہر شیعہ مسلمان ہدف تھے

افغانستان میں حکام کے مطابق دارالحکومت کابل میں واقع ایک پرہجوم مزار میں شیعہ عزاداروں پر بم حملے میں کم از کم 54 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ یوم عاشور پر یہ دھماکہ ایک خودکش بمبار کی کارروائی تھی۔

افغانستان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ کابل میں واقع مزار ابو فضل میں ہونے والے دھماکے میں 54 افراد ہلاک اور ایک سو پچاس کے قریب زخمی ہیں۔

خود کو لشکر جھنگوی العالمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے ابو منصور نامی شخص نے نامعلوم مقام سے بی بی سی پاکستان کو فون کرکے کابل دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

دریں اثناء ملک کے شمالی شہر مزارے شریف میں بھی ایک دھماکے میں چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

دونوں دھماکے دوپہر کو بیک وقت ہوئے ہیں۔

افغانستان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ سڑسٹھ زخمی افراد کو ہسپتال لایا گیا ہے۔

یہ دھماکے افغانستان کے مستقبل کے بارے میں جرمنی میں ہونے والی عالمی کانفرنس کے انعقاد کے اگلے ہی روز ہوئے ہیں۔

پاکستان نے اپنے سرحدی علاقے سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو کے حملے میں چوبیس فوجیوں کی ہلاکت کے بعد احتجاجاً اس کانفرنس میں حصہ نہیں لیا تھا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے فرقہ وارانہ نوعیت کے لگتے ہیں جو افغانستان کی حالیہ تاریخ میں غیرمعمولی بات ہے۔

افغانستان میں منگل کو عام تعطیل ہے اور وہاں شیعہ مسلمان یومِ عاشور منا رہے ہیں۔

کابل میں بی بی سی نامہ نگار کوئنٹن سمروِل کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں اور پورے شہر میں ایمبولینس کے سائرن کی آوازیں سنی جا رہی ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ لگتا ہے جیسے شیعہ برادری پر دونوں حملے منظم انداز میں کیے گئے ہیں اور اتنے بڑے پیمانے پر غیر معمولی فرقہ وارانہ حملے ہیں۔

افغانستان میں بھی شیعہ اقلیت اور سنی اکثریت میں کشیدگی رہتی ہے تاہم عراق اور پاکستان کی طرح افغانستان میں اتنے بڑے پیمانے فرقہ وارانہ تشدد کبھی کبھار ہی دیکھا گیا ہے۔

مزارے شریف کے واقعہ میں بم کو ایک سائیکل پر نصب کیا گیا تھا جو ایک مسجد کے قریب کھڑی تھی اور یہ بم کابل کے دھماکے کے فوراً بعد پھٹ گیا تھا۔

خبررساں ادارے اے پی کے مطابق صوبۂ بلخ کی پولیس کے نائب سربراہ عبدالرؤف تاج نے کہا ہے کہ بم دھماکہ اس وقت ہوا جب اس کے قریب سے جلوس گزر رہا تھا۔

اسی بارے میں