عراق میں سلسلہ وار دھماکے، تیس ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سکیورٹی اہلکار حلہ میں ہونے والے دھماکے میں استعمال کی گئی گاڑی کا معائنہ کررہے ہیں

عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ محرم کے جلوس میں سلسلہ وار بم دھماکوں میں تیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

سب سے بڑا دھماکہ حلہ شہر کے النیل علاقے میں ہوا جب دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک گاڑی میں اس وقت دھماکہ ہوا جب اس کے قریب سے جلوس گزر رہا تھا۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں سولہ افراد ہلاک ہوگئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

بعدازاں دارالحکومت بغداد میں ہونے والے مختلف دھماکوں میں گیارہ افراد ہلاک ہو گئے۔

پولیس اور ہسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی ضلع اُر میں بھی ایک جلوس کے قریب سڑک پر نصب بم پھٹنے سے آٹھ افراد مارے گئے جبکہ مشتل کے علاقے میں تین افراد اپنی جانوں سے گئے۔

یہ دھماکے عاشورہ سے ایک روز پہلے ہوئے جب شیعہ برادری امام حسین کی شہادت کی یاد میں تقریبات منعقد کرتی ہے۔

سنہ دو ہزار تین میں امریکی فوج کی مداخلت کے بعد سے عراق میں ہر سال عاشورہ کے دن لسانی تشدد کے واقعات میں شعیہ برادری کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

تاہم اس برس عراقی سکیورٹی فورسز اپنے طور پر عاشورہ کی تقریبات پر سکیورٹی کے انتظامات کی ذمہ دار ہیں۔

اسی بارے میں