امریکی محکمۂ ڈاک: 28ہزار ملازمین کی چھانٹی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکہ میں دو سو باون ڈاکخانوں کو اگلے سال اپریل تک بند کردیا جائے گا

امریکہ کے محکمۂ ڈاک میں تین ارب ڈالر کی کٹوتی کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس کے تحت خدشہ ہے کہ اٹھائیس ہزار ملازمین کو فارغ کردیا جائے گا۔

نئے منصوبے کے تحت درجۂ اول کی ڈاک یعنی اگلے روز مطلوبہ مقام تک دستاویز یا سامان پہنچانے کی سہولت ختم کردی جائے گی۔

دارالحکومت واشنگٹن میں واقع محکمۂ ڈاک کے صدر دفتر میں ڈیوڈ ولیم نے میڈیا کو بتایا کہ خطوط کی تعداد میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔

ان کے بقول بلوں کی ادائیگی اور دیگر رابطوں کے لیے اب صارفین کا انحصار انٹرنیٹ کے استعمال پر بڑھتا جارہا ہے۔

سنہ دو ہزار چھ میں درجۂ اول کی ڈاک کی تعداد تقریباً دس کروڑ کے قریب تھی جو اب آٹھ کروڑ سے بھی کم ہوچکی ہے اور خدشہ ہے کہ یہ تعداد سنہ دو ہزار بیس تک نصف تک پہنچ جائے گی۔

مختلف مقامات پر ڈاکخانوں کو بند کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ اب خطوط کو اپنےمطلوبہ مقام تک پہنچنے سے پہلے زیادہ فاصلہ طے کرنا ہوگا۔

محکمۂ ڈاک کا کہنا ہے کہ سنہ انیس سو اکہتر سے جاری رات ہی رات میں خطوط پہنچانے کی روایت مخصوص حالات کے علاوہ مزید جاری رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔

اپریل سے ڈھائی سو سے زیادہ ڈاکخانے بند ہوجانے کے بعد تخمینہ لگایا گیا ہے کہ خطوط اپنے مطلوبہ مقام تک پہنچنے میں دو سے تین دن لیں گے جبکہ جریدے اور اخبارات کو ان کے صارفین تک پہنچانے میں دو سے نو دن بھی لگ سکتے ہیں۔

ڈیوڈ ولیم نے کہا ’صارفین اپنی پسند کو تلاش کررہے ہیں اور ہم مارکیٹ کے موجودہ حالات کا سامنا کررہے ہیں اور محکمۂ ڈاک کو ایسی ڈگر پر ڈال رہے ہیں جو مستقبل کی تبدیلیوں سے آشنا ہوسکے۔‘

اسی بارے میں