بحری جنگ کے لیے تیاریاں بڑھائے: چینی صدر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

چین کے صدر ہو جنتاؤ نے چین کی بحری افواج کو تفصیلی جنگی تیاریاں کرنے کی تائید کی ہے۔

چین کو اپنے جنوبی سمندر میں علاقائی تنازعات کا سامنا ہے اور اسی بنا میں چین اور امریکہ کے مابین کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

صدر ہو جنتاؤ کے بیان کے جواب میں امریکہ کا کہنا ہے کہ چین کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے اف پی کے مطابق پنٹاگن کے ترجمان ایڈمیرل جون کربی نے کہا ’اس علاقے میں کوئی بھی معرکہ آرائی کی کوشش نہیں کر رہا۔ ہم کسی بھی ملک کا اپنی بحری فوج کو بہتر بنانے کا موقع نہیں چھینیں گے۔‘

امریکہ اور چین کے اعلیٰ دفاعی حکام فوجی معاملات پر بات چیت کر رہے ہیں۔ یہ مذاکرات ہر سال منعقد کیے جاتے ہیں جن کا مقصد دونوں ممالک کے بیچ کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہونے دینا ہے۔

چین نے اپنا پہلا طیارہ بردار بحری جہاز حاصل کر لیا ہے اور اپنے بحری عزائم کے بارے میں کافی واضح اعلانات کرتا رہا ہے۔

صدر ہو جنتاؤ نے فوجی حکام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چین کی بحری افواج کو جدت اور تبدیلی لانی ہو گی تاکہ وہ ملکی دفاع میں اہم تر کردار ادا کر سکیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر ہو جنتاؤ کے الفاظ غیر عمومی طور پر تلخ ہیں اور ان کا اشارہ امریکہ اور چین کے جنوبی سمندر کے دوسرے ممالک کی طرف ہے۔

فلپائین اور ویت نام نے کئی بار چین پر اس علاقے میں بے جا جارحیت کا الزام لگایا ہے۔

ان کا شمار ان ممالک سے ہے جو کہ اس علاقے میں تیل اور گیس کے ذخائر ملنے کی امید میں چند جزیروں پر اپنی خومختاری کا دعویٰ کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے امریکی صدر براک اوباما نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ امریکہ اس علاقے میں اپنی افواج کی تعداد کو بڑھائے گا اور ایک پورا بحری بیڑا شمالی آسٹریلیا میں تعینات کیا جائے گا۔

مصبرین کا کہنا ہے کہ امریکی اقدام اس علاقے میں چین کے اثر و رسوخ میں براہ راست چینلنج ہے اور علاقے میں امریکی اتحادیوں کو مضبوط کرے گا۔

اسی بارے میں