میزائیل شیلڈ پر روس اور نیٹو مذاکرات ناکام

فائل فوٹو، میزائل تصویر کے کاپی رائٹ AFP

روس اور نیٹو کے مابین برسلز میں میزائل دفاعی نظام یا یورپ میں میزائل شیلڈ سے متعلق جاری مذاکرات میں کوئی خاطرخواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔

روسی وزیرِخارجہ سرگئی لاؤروو کا کہنا ہے کہ اگر روس کے عسکری مفادات کا خیال نہیں رکھا گیا تو روس کو جوابی دفاعی اقدامات اُٹھانے پڑیں گے۔

انھوں نے مزید کہا ’ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ نیٹو اپنے اراکین کے دفاع کی ذمہ داری کسی ایسے ملک کو نہیں سونپ سکتا جو نیٹو اتحاد کا حصہ نہیں۔ مگر نیٹو کو اس بات کا احترام کرنا ہوگا کہ ہمیں بھی اپنے دفاع کا مکمل حق ہے۔‘

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق روسی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ یہ میزائل دفاعی نظام روس کے بہت سارے حصوں کی بھی نگرانی کر سکتا ہے اور اس بارے میں ہمیں سنگین تحفظات ہیں۔ ہماری یقین دہانی کے لیے الفاظ کافی نہیں بلکہ ہمیں قانونی ضمانتیں درکار ہیں۔‘

نیٹو کے سیکریٹری جنرل فوغ راسمیوسن کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس معاملے پر کوئی اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا مگر پھر بھی یہ اہم ہے کہ ہم بات چیت کا عمل جاری رکھیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ روسی صدر دمتری میدوی ایدف نے اس معاملے پر روس کا موقف واضح کیا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگرچہ روس اس معاملے پر بات چیت کرنے کو تیار ہے تاہم اگر روسی تحفظات کا خیال نہ رکھا گیا تو ہم مناسب جوابی اقدامات کریں گے جس میں روسی افواج کو اس میزائل دفاعی نظام کو پار کرنے کے قابل میزائلوں سے لیس کرنا شامل ہے۔ نیٹو اور برطانوی حکومت نے اس بیان پر مایوسی ظاہر کی تھی۔

نیٹو یورپ اور ترکی میں میزائل کے خلاف دفاعی نظام نصب کرنا چاہتا ہے۔ نیٹو کا موقف ہے کہ اس نظام کا مقصد ایران اور دوسری باغی حکومتوں کے خلاف حفاظت ہے جبکہ روس کا کہنا ہے کہ اس نظام کا اصل ہدف خود روس ہے۔ امریکہ نے میزائل کا دفاعی نظام کا منصوبہ سابق صدر جارج بش کے دور میں بنایا تھا اور اس منصوبے کی وجہ سے روس اور امریکہ کے درمیان تعلقات کئی بار کشیدہ ہوئے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے اس منصوبے کے سب سے زیادہ متنازع حصوں کو حذف کردیا ہے تاہم روس کا کہنا ہے کہ اس کی تشویش کو اب تک دور نہیں کیا گیا ہے۔

روس نے میزائل کے مشترکہ دفاعی نظام میں دلچسپی ظاہر کی جبکہ نیٹو کا کہنا ہے کہ روس اور نیٹو کے بیچ موجود ایک دوسرے کے خلاف طاقت نہ استعمال کرنے کا معاہدہ کافی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ روس اس نظام سے خود کو لاحق خطرے کو بڑھا چڑھا کر بیان کر رہا ہے تاکہ وہ مذاکرات میں اپنے لیے بہتر مراعات حاصل کر سکے۔ امریکی اور نیٹو حکام کا کہنا ہے کہ روس میں مغرب کے خلاف آوازیں روسی عوام کے لیے ہیں جو حال ہی میں انتخابات میں شرکت کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں