یورپ مالیاتی معاہدے پر راضی، برطانیہ تنہا رہ گیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption برطانیہ کے علاوہ یورپی یونین کے تمام ممبر ممالک نئے مالیاتی معاہدے پررضامند ہو گئے ہیں

یورپی رہمناؤں کا کہنا ہے یورپی یونین کے ستائیس ممبرممالک میں سے چھبیس قرضوں کے بحران سے بچاؤ کے لیے ایک نئے مالیاتی معاہدے پر رضامند ہوگئے۔ برطانیہ یورپی یونین کا واحد ممبر ہے جس نے یورپ کے نئے مالیاتی معاہدے کو مسترد کر دیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت ممبر ممالک کو پابند کیا جائے گا کہ وہ بجٹ کی تیاری کے وقت اپنی آمدنی اور اخراجات میں توازن رکھیں اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے پر پابندیاں عائد ہو سکیں گی۔ اس معاہدے کے تحت بجٹ خسارے کی حد مقرر کر دی گئی ہے۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ بجٹ کے حوالے سے ہدایات برطانیہ کی خود مختاری کے خلاف ہے اس لیے انہوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ انہوں نے جو کچھ بھی کیا ہے وہ برطانوی مفادات کےتحفظ کے لیے کیا ہے۔

یورپی یونین کے سترہ ممالک جو یورو کرنسی کا استعمال کرتے ہیں وہ تمام اس نئے معاہدے پر متفق ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ نیا مالیاتی معاہدہ مارچ نافذ العمل ہو جائے گا۔

نو ممالک نے کہا ہے کہ وہ اپنی پارلیمنٹ سے مشورے کے بعداس معاہدے پر دستخط کر دیں گے۔ برطانیہ کے علاوہ ہنگری بھی اس نئے مالیاتی معاہدے کے خلاف تھا لیکن اس نے بعد میں اپنا موقف تبدیل کر لیا۔

جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل نے کہا کہ برطانیہ واحد ملک تھا جس نے مالیاتی معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی وزیر اعظم نے بھی تسلیم کیا کہ ایک مستحکم یورو ہی برطانیہ کے مفاد میں ہے۔

یورپی کے نو ممالک جو یورو زون کا حصہ نہیں ہیں، ان میں سے ہنگری، چیک جمہوریہ، اور سویڈن نے کہا ہے کہ انہیں اپنی پارلیمنٹ سے مشاورت کرنی ہے۔ یورپی یونین کے چھ دوسرے ممالک جن میں ڈنمارک، پولینڈ، لیٹویا شامل ہیں، نے نئے معاہدے کو ماننے پر اتفاق کیا ہے۔

برسلز میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یورپی یونین نے ممبر ممالک کو مزید قریب لانے کی طرف ایک اہم قدم بڑھایا ہے۔

دس گھنٹےتک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے کہا کہ برطانیہ کے علاوہ کسی دوسرے ملک نے یورپ کو قرضوں کے بحران کو بچانے کے لیے پیش کی جانی والی تجاویز پر اعتراض نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ برطانوی وزیر اعظم لندن کو ان مالیاتی ضابطوں سے باہر رکھنا چاہتے تھے اور وہ ایسی رعایتیں مانگ رہے تھے جنہیں ماننا ممکن نہ تھا۔

آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لوگارڈ نے یورپی یونین کے فیصلے کو درست سمت میں قدم قرار دیا۔ یورپی یونین کو مالیاتی یونین بنانے کے اعلان کے باوجود مارکیٹوں نے کسی خوشی کا اظہار نہیں کیا ہے۔

یورپی سربراہ کانفرنس سے قبل جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل نے کہا تھا کہ یورو کرنسی اپنا اعتبار کھو چکی ہے اور اسے بحال کرنے کے لیے اہم اقدامات کرنے ہوں گے۔

یورپی یونین کے بحران میں جرمنی سب سے مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔ جرمنی کا موقف ہے کہ یورو کرنسی کو بچانے کے لیے یورو مالیاتی یونین کی تشکیل ضروری ہے جس کے تحت یورو کرنسی رکھنے والے ملکوں پر قرضے حاصل کرنے اور ٹیکسوں کا یکساں نظام نافذ ہو گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

جرمنی کا موقف ہے کہ کچھ ممالک جب اپنے غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوتے ہیں تو پھر یورو زون کے تمام ممالک متاثر ہوتے ہیں اور انہیں ان غیر ذمہ دار ملکوں کو بحران سے نکالنے کے لیے مالی مدد فراہم کرنی پڑتی ہے۔

جرمنی کی تجویز ہے کہ اس مالیاتی یونین کے رکن ممالک کے لیے لازم ہونا چاہیے کہ وہ اپنی آمدن اور خرچ کا تناسب کو برقرار رکھیں اور خلاف ورزی کرنے والوں پر پابندیاں عائد ہونی چاہیے۔ جرمنی کی یہ بھی تجویز ہے کہ یورپی عدالت کو اختیار ہونا چاہیے کہ وہ کسی بھی ملک کے بجٹ کو دیکھ سکے۔

اسی بارے میں