شام میں مظاہرے، چودہ افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام میں جمعہ کی نماز کے بعد ہر ہفتے مظاہرے ہونا اب معمول بن چکا ہے

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکومت کے خلاف تازہ مظاہروں میں کم از کم چودہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والے برطانوی انسانی حقوق کے ادارے کا کہنا ہے کہ نو افراد حمص شہر میں جبکہ دو درعا میں ہلاک ہوئے ہیں۔

ایک اور گروپ مقامی رابطہ کمیٹی نے کہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد کم سے کم تیس تک جا پہنچی ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں مارچ سے شروع ہونے والے حکومت کے خلاف مظاہروں میں چار ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

دارالحکومت دمشق سمیت ملک کے دیگر حصوں میں حکومت کے حق میں بھی مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔

شام میں جمعہ کی نماز کے بعد ہر ہفتے مظاہرے ہونا اب معمول بن چکا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ نو افراد حمص میں، دو درعا میں اور ایک ایک شخص ادلیب، ہما اور دمشق کے قریب قصبے دوما میں ہلاک ہوا ہے۔

ان کے مطابق حمص میں ہلاک ہونے والوں میں دو دس سالہ لڑکے بھی شامل ہیں۔ حمص حکومت کے خلاف مزاحمت کا مرکز قرار دیا جارہا ہے۔

تاہم مقامی رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ اٹھارہ افراد حمص میں پانچ ادلیب میں، چار ہما میں، دو درعا میں اور تین افراد دمشق کے مضافات میں ہلاک ہوئے ہیں۔

درعا میں کارکنوں کا کہنا ہے کہ ٹیلیفون اور انٹرنیٹ کی لائینیں کاٹ دی گئی ہیں۔

شام نے بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں پر اپنے ملک میں داخل ہونے پر پابندی عائد کر رکھی ہے جس کے باعث خبروں کی تصدیق کا عمل انتہائی مشکل ہوچکا ہے۔

اسی بارے میں