اقوامِ متحدہ کا دفتر کینیا سے صومالیہ منتقل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بان کی مون سومالیہ کا دورہ اس وقت کر رہے ہیں جب ایک دن قبل صومالیہ میں گزشتہ کئی مہینوں کے بعد بد ترین فسادات ہوئے ہیں

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اعلان کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کا دفتر کینیا کے دارالحکومت نیروبی سے موغادیشو منتقل کیا جارہا ہے۔

یہ بات انہوں نے صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو کے دورے کے دوران کہی۔ صومالیہ کے لیے اقوامِ متحدہ کا دفتر اب تک کینیا سے کام کررہا تھا۔

انہوں نے صومالیہ کے شدت پسند گروہ الشباب سے اپیل کی ہے کہ وہ شدت پسندی ترک کر کے امن کے قیام میں مدد کرے۔

واضح رہے کہ بان کی مون اقوامِ متحدہ کے وہ پہلے اعلیٰ عہدیدار ہیں جو صومالیہ کا دورہ کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے بان کی مون جمعہ کو صومالیہ پہنچے جہاں صومالیہ کے وزیرِ اعظم نے ان کا استقبال کیا۔ جس کے بعد بان کی مون نے صومالیہ کے صدر اور وزیرِ اعظم سے ملاقات کی۔

صومالیہ کے اسلامی شدت پسند اقوامِ متحدہ اور افریقی یونین کی افواج سے برسرِ پیکار ہیں۔

گزشتہ بیس برس سے صومالیہ میں کوئی مؤثر حکومت نہیں رہی ہے اور اسلامی گروپ الشّباب ملک پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

بان کی مون صومالیہ کا دورہ ایسے وقت کر رہے ہیں جب ایک دن قبل ہی صومالیہ میں گزشتہ کئی مہینوں کے بعد بدترین فسادات ہوئے ہیں۔

ان فسادات کے بعد حکام نے سیکورٹی وجوہات کی بناء پر موغادیشو میں آنے اور جانے والی پروازوں کو منسوخ کر دیا ہے جبکہ ملک کی تمام بڑی سٹرکیں بھی بند کر دی گئی ہیں۔

بان کی مون کے ساتھ سفر کرنے والی بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو بکتر بند گاڑیوں میں صدارتی محل لایا گیا۔

واضح رہے کہ اسلامی شدت پسند تنظیم الشباب نے اگست میں اعلان کیا تھا کہ وہ موغادیشو چھوڑ رہے ہیں لیکن اس کے باوجود شہر میں متعدد حملے کیے جا چکے ہیں اور اسی وجہ سے بان کی مون کے دورے کو خفیہ رکھا گیا۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا کہنا ہے کہ اگست سنہ دو ہزار بارہ تک صومالیہ میں عام انتخابات کی حتمی تاریخ مقرر کی گئی ہے جس کے ذریعے صدر اور پارلیمان کا انتخاب کیا جائے گا تاہم اس عمل میں ناکامی کی صورت میں سلامتی کونسل صومالیہ کو دی جانے والی امداد معطل کردے گی۔

اسی بارے میں