روس:متنازع الیکشن کے خلاف ہزاروں کا مظاہرہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مظاہرین پارلیمانی انتخاب میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں

روس کے دارالحکومت ماسکو میں ہزاروں مظاہرین نے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ہونے والے سب سے بڑے حکومت مخالف مظاہرے میں شرکت کی ہے۔

اس مظاہرے میں شامل پچاس ہزار کے قریب افراد سنیچر کو کریملن کے قریب جمع ہوئے اور انہوں نے پارلیمانی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی مذمت کرتے ہوئے دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کیا۔

ماسکو میں مظاہرہ بولوتانیہ چوک میں ہوا جو دریائے ماسکو میں ایک تنگ جزیرے پر واقع ہے جس کے داخلی راستوں کو آسانی سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

اس مظاہرے میں کمیونسٹ ، قوم پرست اور مغرب کی جانب جھکاؤ رکھنے والے آزاد خیال گروپ باہمی تفریق کے باوجود اکٹھے شریک ہوئے۔ اسی نوعیت کے مظاہرے سینٹ پیٹرز برگ اور دیگر شہروں میں بھی کیے گئے ہیں۔

روس میں گزشتہ اتوار کو ہونے والے پارلیمانی انتخاب میں وزیرِاعظم ولادیمیر پوتن کی پارٹی یونائیٹڈ رشیا کی ایوان میں برتری کم تو ہوگئی ہے لیکن معمولی اکثریت کے ساتھ اب بھی برقرار ہے۔

سنیچر کے مظاہرے کے لیے پچاس ہزار کے قریب پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے ۔گزشتہ ہفتے سے وزیرِاعظم پوتن کے خلاف جاری مظاہروں کے دوران اب تک ایک ہزار کے قریب افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ زیادہ ترگرفتاریاں دارالحکومت ماسکو اور سینٹ پیٹرز برگ میں ہوئیں۔

مظاہرے میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں گزشتہ اتوار کو ہونے والے انتخابی نتائج کو منسوخ کرنے، نئے انتخاب کرانے اور الیکشن کمیشن کے سربراہ کے استعفے، انتخاب میں دھاندلی کی تحقیقات اور گرفتار شدہ مظاہرین کی فوری رہائی کے مطالبات کیے گئے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق انقلاب چوک پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی تاکہ مظاہرین وہاں پر جمع نہ ہو سکیں تاہم سینکڑوں مظاہرین وہاں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سینکڑوں مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے

خبر رساں ادارے کے مطابق مظاہرے میں شامل ایک شخص اینٹون نے کہا کہ ’دو دہائیوں میں پہلی بار لوگ انتخابات میں انصاف کے لیے باہر نکل رہے ہیں‘۔

گزشتہ دنوں روس کے وزیرِاعظم ولادیمیر پوتن نے امریکہ پر الزام عائد کیا تھا کہ روس میں پارلیمانی انتخابات کے نتیجے میں ہونے والے مظاہروں کے پیچھے اس کا ہاتھ ہے۔

روسی وزیرِاعظم کا کہنا ہے کہ امریکہ کی وزیرِخارجہ ہلری کلنٹن نے حزبِ اختلاف کے بعض کارکنوں کو ان مظاہروں پر اکسایا ہے۔

روس کے پارلیمانی انتخابات پر بین الاقوامی مبصرین نے بھی خدشات کا اظہار کیا تھا جبکہ وائٹ ہاؤس نے بھی انتخابات کے شفاف ہونے پر تحفظات ظاہر کیے تھے۔

دوسری جانب روسی صدر دمتری میدوی ایدف نے انتخابات کے آزادانہ اور شفاف ہونے پر اصرار کیا ہے۔

اسی بارے میں