شام میں مظاہرے جاری، مزید بارہ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام میں جمعہ کی نماز کے بعد ہر ہفتے مظاہرے ہونا اب معمول بن چکا ہے

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ سنیچر کو شامی سکیورٹی فورسز نے مزید بارہ افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے زیادہ تر حمص اور چار شمال مغربی صوبے ادلیب میں ہلاک ہوئے جہاں حکومتی فورسز نے ایک بچے کے جنازے میں شامل افراد پر گولی چلا دی۔

یہ بچہ ان چالیس سے زائد افراد میں شامل تھا جن کی ہلاکت کی اطلاعات جمعہ کو سامنے آئی تھیں۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں مارچ سے شروع ہونے والے حکومت کے خلاف مظاہروں میں چار ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں تین سو سات بچے بھی شامل ہیں۔

شامی حزبِ اختلاف نے اتوار سے سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس موقع پر ملک گیر ہڑتال کی اپیل کی گئی ہے۔

شام میں حزبِ اختلاف کی قومی کونسل نے یہ بھی کہا ہے کہ حمص شہر میں فوری فوجی آپریشن کے خطرات ہیں جبکہ فرانس نے حمص میں فوجی آپریشن کے خدشات پر تشویش ظاہر کی ہے اور عالمی برادری سے کہا ہے کہ وہ شامی عوام کو بچانے کے لیے حرکت میں آئے۔

شام نے بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں پر اپنے ملک میں داخل ہونے پر پابندی عائد کر رکھی ہے جس کے باعث خبروں کی تصدیق کا عمل انتہائی مشکل ہوچکا ہے۔

اسی بارے میں