’یورپی ویٹو برطانیہ کے لیے برا ہے‘

Image caption ڈیوڈ کیمرون کے اس فیصلے سے برطانیہ یورپی برادری میں تنہا ہو جائے گا

برطانیہ کے نائب وزیراعظم نک کلیگ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے یورپ میں اقتصادی بحران کے حل کے لیے پچھلے ہفتے برسلز میں ہونے والی یورپی سربراہان حکومت کی کانفرنس کی سفارشات کا حصہ بننے سے انکار ’ملک کے لیے اچھا نہیں‘ اور اس کے نتیجے میں وہ یورپی برادری میں ’تنہائی کا شکار ہو سکتا ہے‘۔

برطانوی وزیراعظم کیمرون نے کانفرنس کی سفارشات کو یہ کہہ کر مسترد کیا تھا کہ ان سے برطانیہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

برطانوی مخلوط حکومت میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کی نمائندگی کرنے والے نائب وزیراعظم نک کلیگ کا کہنا تھا کہ انہوں نے کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو بتا دیا ہے کہ یہ فیصلہ برطانیہ کے حق میں نہیں ہے۔

برطانوی نائب وزیر اعظم نے کہا کہ ڈیوڈ کیمرون کے اس فیصلے سے برطانیہ یورپی برادری میں تنہا ہو جائے گا لیکن وہ ڈیوڈ کیمرون کو حکومت چلانے کے لیے تنہا چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

انہوں نے فرانس اور جرمنی پر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اس ہٹ دھرمی اور کنزرویٹوز کے دباؤ نے وزیراعظم کو انتہائی مشکل حالات میں لا کھڑا کیا تھا۔

نک کلیگ نے کہا کہ اب کی حتی المقدور کوشش یہی ہوگی کہ اس دھچکے کو مستقل بنیادوں پر تقسیم میں تبدیل ہونے سے روکا جائے۔

اسی بارے میں