روس: احتجاج نے حکمراں طبقے کو ہلادیا

روس میں احتجاج کی فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption روس میں انتخابات میں دھاندلی کے خلاف احتجاج ہوا ہے

روس کے دارالحکومت ماسکو میں ہزاروں مظاہرین کی جانب سے کیے جانے والے احتجاج نے حکمراں سیاسی طبقے کو ہلا کررکھ دیا ہے۔

پوری دنیا میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کی نسبت یہ دنیا کا سب سے بڑا احتجاج نہیں کہا جاسکتا ہے لیکن پولیس کا کہنا کہ اس احتجاج میں پچیس ہزار افراد نے حصہ لیا۔

ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈینیئل سینڈفورڈ نے بتایا کہ اس احتجاج کو سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ہونے والے سب سے بڑے حکومت مخالف مظاہرے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

اس مظاہرے میں شامل افراد سنیچر کو کریملن کے قریب جمع ہوئے اور انہوں نے پارلیمانی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی مذمت کرتے ہوئے دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کیا۔

ماسکو میں مظاہرہ بولوتانیہ چوک میں ہوا جو دریائے ماسکو میں ایک تنگ جزیرے پر واقع ہے جس کے داخلی راستوں کو آسانی سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

اس مظاہرے میں کمیونسٹ ، قوم پرست اور مغرب کی جانب جھکاؤ رکھنے والے آزاد خیال گروپ باہمی تفریق کے باوجود اکٹھے شریک ہوئے۔ اسی نوعیت کے مظاہرے سینٹ پیٹرز برگ اور دیگر شہروں میں بھی کیے گئے ہیں۔

گزشتہ بارہ برس میں جب بھی روس میں احتجاج ہوئے ہیں بیشتر لوگ اپنے گھروں میں رہے ہیں اور وہ احتجاج میں شامل نہیں ہوئے۔

یہ روس کے وہ بیشتر عوام ہیں جو سیاست کو اپنے زندگی سے باہر ہی رکھتے ہیں اور وہ اپنا زیادہ تر وقت اپنی زندگی کو بہتر بنانے میں صرف کرتے ہیں۔

وہ سویت یونین کے دور اور نوے کی دہائی کی تلخ یادوں کو پیچھے چھوڑ دینا پسند کرتے ہیں۔

لیکن جب گزشتہ انتخابات ہوئے تو لوگوں نے اپنی پسند کی پارٹی کو ووٹ دینے کے بارے میں سوچا۔ وہ سمجھتے تھے کہ حکمراں طبقہ ان کے حالات کا فائدہ اٹھارہا ہے۔ اسی بات کو دھیان میں رکھتے ہوئے پورے روس خصوصاً ماسکو میں بڑی تعداد نے لوگوں نے حکمراں جماعت یونائیٹیڈ روس کے خلاف ووٹ ڈالے۔

جب انتخابات کے نتائج آئے تو عوام کو لگا کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے اور انتخابات کے نتائج میں دھاندلی کی گئی ہے۔

ماسکو کی سڑکوں پر جب مظاہرین نکلے تو انہوں نے کہا کہ دو دہائیوں میں پہلی بار لوگ انتخابات میں ’انصاف کے لیے باہر نکل رہے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ انتخابات میں ہونے والی دھاندلیوں نے انہیں ’غصے سے پاگل‘ کردیا۔

احتجاج میں شامل اٹھارہ سالہ یلینا شولوسکیا کا کہنا تھا ’مجھے اس بات پر بے حد تعجب ہوا کہ کس سطح کی دھاندلی ہوئی تھی۔ میں یہ نتائج قبول نہیں کرسکتی ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس احتجاج میں نوجوان، تعلیم یافتہ، لوگ بھی شامل تھے جو انٹرنیٹ کا استمعال بہترین طریقے سے کرتے ہیں

اکیس سالہ گیرا پاویلو کا کہنا تھا ’میں اپنے ملک میں شفاف انتخابات چاہتا ہوں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’میں کسی بھی ایسے شخص کو نہیں جانتا جس نے یونائیٹیڈ روس کو ووٹ دیا تھا۔ مجھے شبہہ ہے کہ ماسکو میں انہیں پینتالیس فی صد ووٹ کیسے حاصل ہوئے۔‘

اس احتجاج میں نوجوان، تعلیم یافتہ، لوگ بھی شامل تھے جو انٹرنیٹ کا استمعال بہترین طریقے سے کرتے ہیں۔

یہ روس کی ’سوشل نیٹ ورک مومنٹ‘ تھی۔ ملک کی حزب اختلاف جماعتیں احتجاج کے دوران ان ہزاروں نئے چہروں کو مخاطب کررہی تھیں جو فیس بک، ٹوئٹر جیسی ویب سائٹس پر احتجاج کے بارے میں پڑھ کر مظاہرے میں شامل ہوئے تھے۔

اس احتجاج میں ان پارٹیوں نے بھی حصہ لیا جو کہنے کو حکمراں جماعت کی اتحادی ہیں۔ ایسی ہی ایک پارٹی جسٹ رشیا ہے جسے حکومت نے کمینسٹو کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے بنایا تھا۔

لیکن جسٹ رشیا کے اہم رہنماء گینداڈی گڈکو احتجاج میں سرگرم تھے اور انہوں نے بدعنوانی کے لیے حکومت پر شدید تنقید کی۔

انہوں نے انتخابات کے نتائج پر شک کا اظہار کیا۔

ان مظاہروں میں جو لوگ شامل تھے ان میں نوجوان طبقے کے علاوہ کمیونسٹوں کا خاتمہ کرنے والے آزاد گروپ سے تعلق رکھنے والے شامل ہیں۔ لیکن ولادیمیر پوتن کو جس طبقے سے ڈرنے کی ضرورت ہے وہ نوجوان طبقہ ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو گزشتہ اکیس برس سے اپنے والدین سے حکومت کی شکایات سن کر تنگ آچکا ہے۔

یہ وہی طبقہ ہے جو اپنے ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرے گا۔ ہوسکتا ہے ایسا جلدی نہ ہوپائے لیکن ایک بار جب انہیں اپنی اجتماعی طاقت کا اندازہ ہوجائے گا تب ولادییمیر پوتن کے لیے ایک بڑا چیلنج پیدا ہوسکتا ہے۔

اسی بارے میں