برسلز:غیرت کے نام پر قتل، اہلخانہ کو قید

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پہلی مرتبہ بیلجیئم میں غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے میں سزا دی گئی ہے

یورپی ملک بیلجیئم میں ایک عدالت نے ایک اٹھارہ سالہ پاکستانی نژاد لڑکی کے ’غیرت کے نام پر قتل‘ کے مقدمے میں اس کے اہلِ خانہ کو قید کی سزا سنا دی ہے۔

بیس سالہ سعدیہ شیخ کو چار برس قبل اکتوبر سنہ دو ہزار سات میں ان کے بھائی مدثر شیخ نےگولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

بیلجیئم کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پیر کو عدالت نے سعدیہ کے اہلِ خانہ کو ان کے قتل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سعدیہ کے والد کو پچیس، والدہ کو بیس، بھائی کو پندرہ اور بہن کو پانچ سال قید کی سزا سنائی۔

مقدمے کی سماعت کے دوران سعدیہ کے بھائی نے قتل کا اعتراف کر لیا تھا جبکہ ان کے والدین اور بہن پر سعدیہ کے قتل کی سازش تیار کرنے کا الزام ثابت ہوا جس کے تحت ان افراد نے سعدیہ کو بہلا پھسلا کر گھر واپس بلایا جہاں مدثر نے اسے تین گولیاں مار دیں۔

استغاثہ نے اس مقدمے میں سعدیہ کے والدین اور بھائی کے لیے عمر قید اور بہن کے لیے بیس سے تیس سال قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھا۔

ملزم خاندان کے وکلاء نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سعدیہ پر گولی چلانے والے مدثر کو اپنے والدین کے مقابلے میں کم سزا ملنے کی وجہ یہ ہے کہ عدالت کی نظر میں والدین نے ہی لڑکی کے قتل کا حکم دیا تھا۔

عدالت کو مقدمے کے دوران بتایا گیا کہ سعدیہ شیخ کی ہلاکت کی وجہ پاکستان میں مقیم اپنے ایک رشتہ دار سے شادی سے انکار تھا جو اس کے خاندان کی پسند تھا۔

والدین کی جانب سے شادی طے کیے جانے کی کوشش کے بعد سعدیہ نے گھر چھوڑ دیا تھا اور ایک بلیجیئن شہری کے ساتھ رہنے سے قبل انہوں نے کچھ وقت گھریلو تشدد کا شکار افراد کے مرکز میں بھی گزارا تھا۔